|
سرکار تاج الاولیاءﺭﺿ
سے ایک مرتبہ ایک صاحب نے کہا حضور آپ کو سو پچاس میل دور تک تو دکھائی دیتا
ہوگا۔سرکار نے فرمایا؛ ? کیا بکتا ہے جدھر بھی دیکھتا ہوں لاکھوں
کوس دیکھتا ہوں
( کوس ۳ میل کے فاصلہ کو کہا جاتا تھا)۔
اپور
حضور ﺭﺿ
نے فرمایا۔ ?کسی ولی سے آج تک پانچ پیسے نہیں بنے ۔ ہم پانچ پیسے بنا کر دکھائیں گے ۔ ہم تاج الدین ہیں۔ ?
مرتبہ
ایک روز آپ ﺭﺿ
راجہ بہادر کے محل کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے ۔ پیچھے سے ایک صاحب نے سوال کیا ۔ ? بابا فلاں بزرگ نے گیارہ منزلیں طے کیں تھیں?۔ آپ نے کتنی منزلیں طے کیں ۔ آپ نے ایک گالی دے کر فرمایا ؛
?گن لے سیڑھیاں ۔
اپور
فرید الدین عرف چھوٹے بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
جو مریم بی اماں صاحبہﺭﺿ
کے برادرزادہ تھے ان سے سرکار باباصاحب
ﺭﺿ
نے فرمایا ۔
?سب ہو گئے اپنے اپنے وقت کے سلطان و بادشاہ ہم اپنے وقت کے شہنشاہ ،جس کو دیں اس سے کوئی نہیں لے سکتا ۔ اور جس کو نہ دیں اسے کوئی نہیں دے سکتا۔ اپور
ایک شخص حاضر ہوا اور حضور ﺭﺿ
کے قدم پکڑلئے اور عرض کی بابا اب آپ کو نہیں چھوڑونگا۔ جب تک آپ اپنی زبان مبارک سے یہ نہ فرما دیں کہ ?تیرا بیڑا غرق ہوجائے ?۔ حضور
ﺭﺿ
نے فرمایا ؛
?یہاں بیڑا غرق نہیںکیا جاتا تیرا یا جاتا ہے۔ ?
چند حضرات نے حضور ﺭﺿ
سے عرض کیا ۔سرکار وہ فلاں صاحب آپ کی شان میں کچھ غلط باتیں کر رہے تھے۔ انکے لئے آپ بد عا کر دیں۔سرکا ر نے ارشاد فرمایا
?نکو حضرت! ہمارا دربار دعا کا ہے بد عاد کا نہیں ۔ اپور
ایک مرتبہ ایک صاحب نے دریافت کیا بابا آپ کے بچے (غلام ) کتنے ہیں۔ فرمایا؛
? تارے گن لے ? ? ۔
( آسمان کی طرف اشارہ فرما کر ) آپ کا فرمان کہ لاکھوں کوس تک دیکھتا ہوں اس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ کے بچے دنیا کے گوشہ گوشہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ انکی تربیت ہو رہی ہے ۔ ( سرکار تربیت فرما رہے ہیں) حکم احکام برابر مل رہے ہیں۔ ہرطرح آج بھی سرکار ان کی نگرانی فرما رہے ہیں۔اس سلسلہ کے چند واقعات پیش کررہا ہوں۔ اپور
راوی رانے بابومالک انوپم ہوٹل۔
٦۱ءدسمبر ۹۷۹۱ئ مطابق ۵۲ءمحرم الحرام کو ایک ستر سالہ ضعیف شخص جن کے ہمراہ ان کی بوڑھی بیوی لڑکا اور بہو موجود تھے۔ شکر درہ شریف میںحضور
ﺭﺿ
کے چلہ مبارک پر حضور ﺭﺿ
کے پلنگ مبارک کے قریب بیٹھ کر زارو قطار رو رہے تھے۔ عرس کا اجتماع تھا۔ میری نظر ان پر پڑی ان کے اس طرح رونے پر ان کو توجہ سے دیکھا لیکن وجہ دریافت کرنے کی ہمت نہ ہوئی ۔ ۸۱دسمبر ۷۲ محرم الحرام کو ہم لوگ اماں صاحبہﺭﺿ
کے مزار پر حاضری دینے گئے تو وہاں بھی میں نے ان بزرگ کو اپنے گھر کے افراد کے ہمراہ دیکھا ۔ اماں صاحبہ
ﺭﺿ
کے مزار مبارک پر بھی وہ بلک بلک کر رو رہے تھے۔ یہاں میں نے ہمت کی اور ان کے قریب جا کر بیٹھ گیا اور ان سے دریافت کیا ? بابا جی آپ کو کیا تکلیف ہے۔ میری بات سن کر بھی وہ چند لمحہ اور روتے رہے پھر انہوں نے گڑگڑاتے ہوئے جواب دیا۔ بابو تکلیف تو کچھ نہیں ہے ۔ حضور باباصاحبﺭﺿ
کاکرم ہی کرم ہے لیکن مجھ سے ایک مرتبہ بے ادبی ہوگئی تھی۔ جب اس کا خیال آتا ہے تو آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ پھر انہوں نے پوری تفصیل یوں بیان کی۔
میں کراچی (پاکستان) سے آیا ہوں پنشن یافتہ کلکٹرہوں ۷۴۹۱ئ سے قبل ناگپورہی میں میرا قیام تھا ۔سرکار کی حیات ظاہری میں شکردرہ حاضر ہوا کرتا تھا اس زمانہ میں، میں ایک معمولی ملازم تھا۔ لیکن سرکار مجھے کلکٹر کہہ کر مخاطب کیا کرتے تھے ، ایک روز شکردرہ حاضر ہوا تو دیکھا عقیدت مندوں کی قطارلگی ہوئی ہے۔ میںبھی قطار میں کھڑا ہو گیا دل میں خیال ہوا کہ حضور بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
پہنچے ہوئے بزرگ تو ہیں لیکن انکا مرتبہ کیا ہو گا اس شش و پنج میں میری باری آئی اور محل کے احاطے میںداخل ہوا۔ اس وقت سرکار فرش پر پیروں کے بل تشر یف فرماتھے۔ میں قدمبوسی کے لئے جیسے ہی گھٹنوں کے بل بیٹھا سرکار نے اپنا دایاں پیر میرے آگے بڑھا دیا۔ میں نے جو آپ کے تلوے پر نظر ڈالی تو اوپر کے حصہ میں سورج کی روشنی نکل رہی تھی ۔ جس سے میر ی آنکھیں چکا چوند ہوگئیں۔ حیرت سے آسمان کی طرف دیکھا تو اندھیرا نظر آیا۔ دوبارہ نیچے دیکھا تو حضور
ﺭﺿ
نے یہ فرمایا ?جاﺅ کلکٹر جہاں بھی رہتے کلکٹری کرتے ۔حضور ﺭﺿ
کے یہ الفاظ سن کر مجھے ہوش آیا ۔ مگر مجھ سے مرتبہ معلوم کرنے کی جو بے ادبی ہوئی تھی اس کی معافی نہ ہو سکی۔ کچھ دنوں بعد ہی حضور
ﺭﺿ
کا وصال ہو گیا اور معافی مانگنے کا خیال دل کادل ہی میں رہ گیا ۔ وہاں کی مصروفیات کی وجہ سے پھر حاضری نہ ہو سکی۔ اب پنشن حاصل کرنے کے بعد حاضر ہوا ہوں ۔ تو اپنے مہربان آقا سے معافی کا خواستگار ہوں۔اماں صاحبہ
ﺭﺿ ﺭﺿ
کے پاس حاضر ہوں ۔ کہ وہ سفارش کر کے میری اس بے ادبی کی معافی کرادیں۔ آپ بھی میرے لئے دعا کریں کہ سرکار میری گستاخی معاف فرما دیں۔ اپور
تحصیلدار عبد الغفار صاحب سے معلوم ہوا کہ حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کی خدمت میں ایک بد عقیدہ شخص آزمائش کے طور پر توجہ کا طلب گا ر ہوا۔ بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
نے اسے منع فرمایا ۔ جب اس نے بہت زیادہ اصرار کیا تو حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
نے فرمایا ۔
? تاج الدین کی توجہ سے پہاڑ بھی پھٹ جا تا ہے۔ ?
آپ کے یہ فرمانے کے ساتھ ہی اس کا خون بہہ نکلا اور وہ ختم ہو گیا ۔ بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
نے
فرمایا ۔
?مٹی تھا مٹی میں ملا دو?۔ اپور
کبھی کبھی حضور ﺭﺿ
تنبیہ وتعلیم کے طورپر فرماتے تھے۔
?ہمارا نام تاج الاولیاءتاج الملت والدین شہنشاہ ہفت اقلیم سید محمد بابا تاج الدین ہے۔ اپور
ایک خستہ حال بیل گاڑی والا اپنی بیل گاڑی میں جارہا تھا ۔ اتفاقاً اس کا گذر باباصاحب
ﺭﺿ
کے سامنے سے ہوا ۔ دور سے ہی بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کو دیکھ کر دل میں خیال کر رہا تھا کہ بابا جی تو جہ فرما دیں تو میرے حالات بہتر ہو جائیں ۔ جیسے ہی وہ قریب آیا سرکار نے ایک مردہ کتے کی طرف اشارہ کر کے اٹھانے کے لئے حکم دیا۔ تعمیل حکم میں گاڑی میں کتے کو ڈال لیا۔ تھوڑی ہی دور گیا ہو گا کہ اسے خیال ہوا۔کتے کو پھینک دوں ۔ جیسے ہی اس نے کتے کو ہاتھ لگایا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں بجائے مرے ہوئے کتے کے ایک رقم سے بھری ہوئی تھیلی ہے۔
حضرت بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کے سامنے کبھی کسی کو عرض معروض کرنے کی ضرورت ہی نہ ہوتی تھی ۔ اور نہ آپ کسی کو خصوصی طور پر مخاطب فرماتے۔ اپور
ایک بار میں دن کے وقت حضور بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کے پاس موجود تھا۔ علی گڑھ جانے والے چند طالب علم ایک فوٹو گرافر کو لائے،خود بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کے دونوں جانب کھڑے ہوگئے اور فوٹو گرافر نے تصویر لے لی۔ جب فوٹوگرافر فوٹو دھو کر لایا تو فوٹو میں لڑکے تو موجود تھے لیکن بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
قبلہ کی شبیہ موجود نہ تھی۔ اپور
جب بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
پاگل خانے میں تھے ۔ اس دوران ایک واقعہ پیش آیا ۔ اسی دوران شہر کے ایک بہت بڑے آدمی نے جو ہمیشہ حضور باباصاحب
ﺭﺿ
سے اظہار نفرت کیا کرتا تھا اپنے ایک ملنے والے کے مجبور کرنے پر پاگل خانے کے اندر قدم رکھا تو یہاں حضور بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کو عجیب عالم میں دیکھا کہ حضور بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
پنا ہی بول و براز اپنے جسم پر مل رہے ہیں تو وہ فورا ہی اظہار کراہیت کرتا ہوا واپس بھاگا۔ اس کے دوست نے مجبور کیا کہ میاں ٹھہرو یہ کیا حماقت ہے ذرا صبر کر لو اور دیکھو تو یہ بھی ایک رمز فقیرانہ ہے ۔
ادھر حضورباباصاحبﺭﺿ
جب اپنے عمل سے فارغ ہوئے تو فورا ہی چار پانچ آدمی جو حضور
ﺭﺿ
کے پاس کھڑے ہوئے تھے انھوں نے حضور ﺭﺿ
کو نہلانا شروع کیا اور ان میں یہ عاجز فقیر بھی شامل تھا۔ غرض کہ جب ہم لوگ حضورﺭﺿ
کو نہلا چکے اور آپﺭﺿ
کو دوسرا چغہ پہنا دیا گیا تو یکایک ہم لوگوں کے ہاتھ خوشبو سے مہک اٹھے اور خوشبو کا بڑھتے بڑھتے یہ عالم ہو گیا کہ ساری فضا اور اطراف پاگل خانہ معطر ہو گیا،تمام لوگ حیران رہ گئے کہ اتنی زبردست اور تیز خوشبو کہاں سے آرہی ہے اور ہم لوگوں کو جو حضورﺭﺿ
کے نہلانے والے تھے یہ احساس یکایک پیدا ہوا کہ ہم لوگوں کے ہاتھ خوشبو سے کس قدر مہک اٹھے ہیں اور قریباً ایک ہفتہ تک میرے اور ان تمام آدمیوں کے ہاتھوں سے جوحضور بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کو نہلانے میں شریک تھے خوشبو نہیں گئی ۔ اسی دوران اکثر و بیشتر لوگ یہ واقعہ سن سن کر ہمارے ہاتھ سونگھنے آتے تھے اور ہماری دست بوسی کرتے تھے۔ غرض کہ ہر رو ز روزِ عید کی طرح ناگپور کا شہر معطر و معنبر رہا اور وہ شخص جو بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کی یہ حالت دیکھ کر چلا گیا تھا اور کراہیت کا اظہار کیا کرتا تھا لوگوں نے مجھے بتایا کہ وہ بری طرح بیمار ہے اور اس کے پاس سے بدبو ہی بد بو آرہی ہے یہاں تک کہ اس کے گھر والوں نے بھی اس کے پاس آنا جانا بند کر دیا ہے اور دور سے ہی کھانے پینے کو دیتے ہیں۔ بعد میں معلوم ہواکہ وہ شخص دسویں یا گیارہویںروز مرگیا۔ اپور
ایک مرتبہ میری موجودگی میں آپ ﺭﺿ
نے پانی مانگا ، اور پینا شروع کیا آپ گلاس پر گلاس پیتے جاتے تھے اور لوگ دوڑ کر لالا کر دیتے جاتے تھے ، پیتے رہے ، پیتے رہے یہاں تک کہ اندر محل کا اور مٹکوں کا ، گھڑوں کا پانی ختم ہو گیا ۔ جب ڈھائی تین گھنٹہ کا عرصہ گزر گیا تب لوگوں نے دیکھا کہ حضور
ﺭﺿ
خاموش بیٹھے ہیں ،خدا جانے وہ پانی کدھر گیا اور کہاں گیا اور اپنی وہی محمدی بیٹھک بیٹھے رہے پھر شام کے وقت فرمایا کہ سارے ہی پیاسے تھے جی وہ حضرت اور زخمی بھی تھے انکو وہاں پانی کہاںملتا جی ، وہ جنگ کا میدان جی حضرت ۔یہ دوران ِ جنگ کا واقعہ ہے اور اس وقت عالمگیر جنگ لگی ہوئی تھی جس وقت یہ کرامت ظہور پذیر ہوئی ۔عام طور پر بلا تخضیص مذہب و ملت خواہ ہندو ، خواہ مسلمان ، سکھ، عیسائی ، برہمن ، پارسی وغیرہ سارے لوگ اپنی اپنی مرادیں عرض کرتے اور جھولیاں بھرلے جاتے ، روتے ہوئے آتے اور ہنستے ہوئے جاتے۔ اپور
راجہ رگھوجی راﺅ نے د و گھوڑوں کی بگھی جسے وہاں کی اصلاح میں پینس کہتے ہیں ہمیشہ جتی ہوئی تیار کھڑی رہنے کا حکم دے رکھا تھا۔ غرض کہ بگھی ہمیشہ جتی ہوئی تیار کھڑی رہتی تھی اور جب بھی بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کا جی چاہا بگھی میں جا کر بیٹھ جاتے تھے کوچوان کو بڑے دادا تاج الاولیاء کﺭﺿ
حکم تھا کہ گھوڑوں کو مارنا نہیں اورنہ لگام سے کوئی اشارہ کرنا ۔ گھوڑے اپنی مرضی سے جہاں چاہتے گھوم جاتے اور جدھر چاہتے چلے جاتے ۔
ایک شام بگھی ستیا منڈی جو سول لائن کی طرف بڑی پر رونق آبادی ہے اور لب سڑک ایک مسجد بیچ بازار میںواقع ہے، نمازِ مغرب کی اذان ختم ہوئی اور بگھی مسجد کے دروازے پر آکر رک گئی ۔ بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
بگھی سے اتر کر مسجد میں داخل ہوگئے ، مسلمانوںکی کثیر تعداد جو نماز مغرب ادا کرنے کے لئے وہاں موجود تھی خاموش کھڑی رہی۔
پیش امام صاحب نے بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
سے عرض کیا کہ حضورﺭﺿ
نماز پڑھا یئے، بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
امام کی جگہ ننگے سر کھڑے ہوگئے اور تکبیر کے بعد اللہ اکبر کہہ کر نیت باند ھ لی پھر اللہ اکبر کہہ کر نیت باندھی، غرض کہ پانچ یا سات بار آپ نے نیت باندھی اور اس کے بعد کچھ پڑھا اور اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں چلے گئے، پھر اللہ اکبر کہہ کرکھڑے ہوگئے اور پھر اللہ اکبر کہہ کررکوع میں چلے گئے، پھر اللہ اکبر کہہ کر کھڑے ہو گئے اور پھر اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں چلے گئے ۔ غرض کے پانچ یا سات بار رکوع اور قیام فرمایا، پھر اللہ اکبر کہہ کر سجدے میں چلے گئے، پھر اللہ اکبر کہہ کر قعدے میں بیٹھ گئے اورپھر اللہ اکبر سجدے میں چلے گئے ، پھر اللہ اکبر کہہ کر بیٹھ گئے ۔ غرض کہ پانچ یا سات سجدے کئے اور پہلی رکعت میں قعدہ فرمایا اور کچھ پڑھا اور سلام پھیر دیا اور بغیر دعا مانگے اٹھ کر کھڑے ہوگئے ۔ مقتدی لوگوں میں سے زیادہ لوگوں نے نماز دہرائی لیکن کچھ ایسے نمازی بھی تھے جنہوں نے نماز نہیں دہرائی ، بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
نے فرمایا کہ تم لوگ جیسا کتاب میں لکھا ہے ویسی ہی نماز پڑھتے ہو جی اور ہم کو جیسا کتاب والا بولتا ہے ویسی ہی نماز ہم پڑھتے جی حضرت ۔
اب سنیئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی نماز نہیں دہرائی تھی بلکہ بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کی اقتدا کی تھی اور خاموش تھے ان میں سارے کے سارے بڑے درجوں پر پہنچے اور کچھ بڑے مالدار ملک التجاربن گئے ان کے گھروں میں بڑی برکت آل و اولاد اور مال میں بے حد فراوانی ہوئی اور دیکھتے دیکھتے کیا سے کیا ہوگئے۔ اپور
|