|
سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء کے ارشادات نہایت بلیغ اور پر معنی ہوتے تھے - کلام الملک ملک الکلام آپ کے کلام کی صفت ہے آپ کی بات سمجھنے کے لئے بھی آپ کی دی ہوئی فہم کی ضرورت تھی- حاضرین سے اکثر آپ انہیں کی زبان میں گفتگو فرماتے، ہم نے تجربہ کیا دنیا کی اور بہت سی مشہور و معروف زبانوں کے علاوہ آپ اور بھی بہت سی زبانوں میں کلام فرمات- انگریز سے انگریزی میں، ہندی سے ہندی میں، گجراتی سے گجراتی میں ، عرب سے عربی میں، ایرانی سے فارسی میں ترک سے ترکی میں ، جرمن سے جرمنی میں، جاپانی سے جاپانی میں بے تکلف کلام فرماتے ان کی مرادیں جواب میں پوری فرماتے- آپ کے الفاظ کو سمجھانے کے لئے آپ اپنے بچوں میں کئی حضرات کو وہ فہم بھی عطا کر دی تھی - جن میں خصوصی طور پر حضرت مولانا عبدالکریم شاہ صاحب تاجی ان کے علاوہ اور بھی بڑے دادا تاج الاولیاء کے خصوصی بچے ہوں گے جس شہنشاہ نے سوا لاکھ ولی بنائے ان میں ہزاروں کو یہ خصوصیت بھی عطا کی ہو گی- ?ہو? آپ کا تکیہ کلام تھا- اکثر قرآنی آیات کو گفتگو میں اس طرح استعمال کرتے تھے کہ سائل کے مسئلے کا حل اس میں موجود ہوتا تھا-
صرف خصوصی مسائل ہی میں نہیں بلکہ عام حالات میں بھی بڑے دادا تاج الاولیاء اپنی گفتگو کے اندر ایسے مرکزی نقطے بیان کر جاتے تھے جو براہ راست قانون قدرت کی گہرائیوں سے ہم رشتہ ہیں- بعض دفعہ اشاروں ہی اشاروں میں وہ ایسی بات کہہ جاتے تھے جس میں کرامتوں کی علمی توجیہ ہوتی اور سننے والے کی آنکھوں کے سامنے یک بارگی کرامت کے اصولوں کا نقشہ آجاتا- کبھی کبھی ایسا معلوم ہوتا کہ ان کے ذہن سے قفل کے ساتھ سننے والوں کے ذہن میں روشنی کی
لہریں منتقل ہو رہی ہیں اور ایسا بھی ہوتا کہ وہ بالکل خاموش بیٹھے ہیں اور حاضرین ہر وہ بات من و عن اپنے ذہن میں سمجھتے اور محسوس کرتے جا رہے ہیں جو بڑے دادا تاج لاولیاء کے ذہن میں اس وقت کشت کر رہی ہے-
بڑے دادا تاج الاولیاء چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، گاہے بہ گاہے کچھ بول دیتے عام آدمی ان جملوں کو بے ربط بات سمجھ کر قابل توجہ نہیں سمجھتا تھا- لیکن اس میں کسی کے مسئلے کا حل، سوال کا جواب یا کسی نکتہ کی وضاحت پوشیدہ ہوتی تھی-
اپور
ایک دن بڑے دادا تاج الاولیاء نے ایک صاحب کو جو جنگل کی ملازمت میں پریشان تھے حکم دیا-
?جنگل جاتے، پان کھاتے?
یہ اس کا مطلب نہیں سمجھے، ہمارے پاس آئے، ہم نے کہا جنگل کا مطلب ہمارے یہاں شہر ہے، آپ کو شہر میں رہ کر سرخروئی حاصل ہو گی، موجودہ پریشانی دور ہو جائے گی، چنانچہ ایسا ہی ہوا، وہ صاحب شہر میں تبدیل ہو کر آ گئے اور ہم سے بمقام ساگر سی پی بڑی محبت و عقیدت سے ملے -
اپور
حضور بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کی علالت کے دوران ایک
مائی حاضر ہوئی اور سرکار سے عرض کیا- باوا آپ بیمار رہتے ہیں میرے لئے دعافرمائیں سرکار نے فرمایا ?تاج الدین کی دعا کا دفتر قیامت تک کھلا رہے گا?
اپور
بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کے بچوں کی لسٹ میں ہمارے ایک عزیز غلام سرور صاحب نے نام لکھایا وہ فرماتے ہیں
کہ ان کو ایک شیخ چکر دے کر لے گئے تھے- واپسی پر
حضور ﺭﺿ نے فرمایا
"حضرت آلو پیاز کا بھؤ معلوم کر آئے" اپور
واسع صاحب سی پی میں محکمہ خوراک میں ایک آفیسر تھے، ان کے بڑے بھائی عبدالرحیم صاحب سرکار بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ کے پاس زمانہ طالب علمی میں گئے تو فرمایا -
?مٹی کھودتے ہیں، اچھے رہتے ہیں ?
ان کی سمجھ میں نہ آیا، لیکن بعد میں یہ زراعت پڑھنے لگے اور زراعت کے محکمہ میں ملازم ہو گئے (بعد
میں وہ ڈائریکٹر کی پوسٹ سے ریٹائرڈ ہوئے، جب محکمہ زراعت میں ملازم ہو گئے تو ان کی سمجھ میں آیا کہ سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء نے مٹی کھودنے کو کہا تھا اس کا مطلب کیا ہے؟
اپور
ناگپور پاگل خانے کے مہتمم ڈاکٹر عبدالمجید تھے ، حضور کی کرامتوں کا سکہ ان کے دل پر ایسا جم گیا تھا کہ اپنا کوئی کام بھی حضور کی اجازت کے بغیر نہیں کرتے-
ایک مرتبہ ڈاکٹر صاحب کو نگاپور سے کسی تقریب میں بمبئی جانا تھا، حضور سے اجازت چاہی، آپ نے بمبئی جانے سے منع فرما دیا- ڈاکٹر صاحب نے پھر اجازت طلب کی تو حضور نے ایک پتہ توڑ کر ڈاکٹر صاحب کو عطا کیا اور فرمایا -
?نہیں مانتا، لے جا کر آ?
ڈاکٹر صاحب نے پتہ اپنے پاس رکھا اور بمبئی کے ارادے سے روانہ ہو گئے بھساول اسٹیشن پر اترے اور پٹری عبور کر کے دوسرے پلیٹ فارم پر جانے لگے ، اچانک ایک انجن پوری رفتار سے آتا ہوا ان کے پاس آ کر رکا اور یہ بے ہوش ہو کر گرپڑے، یہ حالت دیکھ کر لوگوں نے شور و غل مچایا کہ دیکھو وہ آدمی کٹ گیا، ادھر انجن ڈرائیور اور دوسرے ملازمین نیچے اترے اور ڈاکٹر صاحب کو اٹھا کر پلیٹ فارم پر لے آئے- جب وہ ہوش میں آئے تو ڈرائیور نے پوچھا سچ بتائیے، آپ کون بزرگ ہیں کہ پوری رفتار سے آتا ہوا انجن روکے بغیر خود رک گیا- یہ سن کر ڈاکٹر کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور وہ پتہ اپنی جیب سے نکال کر آنکھوں سے لگاتے ہوئے کہا ?میں ولی نہیں ہوں لیکن ایک ولئی کامل کا خادم ضرور ہوں"- اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے پورا واقعہ کہہ سنایا، جس کو سن کر بھساول سے زائرین کے جتھے کے جتھے حضور کی خدمت میں پہنچنے لگے ، جو جس مقصد سے آتا کامیاب ہو کر جاتا-
اپور
حاجی عبدالطیف کیتانہ والے بے حد مفلسی کی حالت میں سرکار کی خدمت میں حاضر ہوئے- اور دل میں عرض کیا- بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ نے ایک پتہ اٹھا کر دے دیا- انہوں نے سنبھال کر رکھا اور صحیح سمجھا کہ پتہ سے مراد پتہ کا کاروبار ہو سکتا ہے- چنانچہ بیٹری کے پتہ کا کام شروع کیا تھوڑے دن بعد بیٹری کا کام بھی شروع کر دیا- باکی بیٹری نام رکھا - جو آج تک ہندوستان میں مشہور ہے- چند ہی روز میں وارے نیارے ہو گئے- یہ فرم زندہ و پائیندہ ہے اور کمال عورج پر ہے-
اپور
ایک صاحب ملازمت کی درخواست لے کر حاضر دربار ہوئے، وہ کسی دفتر میں درخواست دینا چاہتے تھے، مگر پہلے بابا کا حکم لینا چاہتے تھے- آپ نے درخواست ہاتھ میں لے کر فرمایا ?السی? اور درخواست ان کو واپس کر دی وہ کچھ نہ سمجھے مگر درخواست بہر حال دفتر میں جا کر پیش کرنا تھا- افسر اعلی نے اس پر لکھا "I will see" اور زبان سے بھی یہی کہا ?آئی ول سی? اور اس لب و لہجہ میں کہا ?السی? کا مطلب ان کی سمجھ میں آگیا-
اپور
کرم خوردہ پتہ
ایک جاگیر دار صاحب کی جاگیر کی اسناد گورنمنٹ میں پیش کرنا تھیں- انہوں نے اپنے گھر میں تلاش کیں نہ مل سکیں- گورنمنٹ کی طرف سے نوٹس بھی آگیا کہ اتنے دونوں کے اندر اسناد پیش کی جائیں - ورنہ تمام جائیداد ضبط کر لی جائے گی- بہت پریشان ہوئے- اسی پریشانی کے عالم میں ناگپور تشریف لائے- بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کا پتہ معلوم کر کے پہنچے بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ اس وقت جنگل میں ایک آم کے پیڑ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے حضور نے زمین سے ایک پتہ اٹھا کر ان کو دے دیا- یہ پتہ جگہ جگہ سے کرم خوردہ سا تھا- جاگیر دار صاحب نے بہت ادب سے لے لیا تب سرکار نے فرمایا -
?جاؤ فتح کرو?
وہ گھر گئے اور خود بھی اور تمام افراد سے کاغذات تلاش کروانے شروع کیئے اللہ کی شان ایک پٹہ مل گیا جو اس پتہ ہی کی طرح جگہ جگہ سے کمر خوردہ تھا ( جو بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ نے عطا کیا تھا) لیکن عبارت بالکل صاف دکھائی دیتی تھی جاگیر دار صاحب نے پٹہ ملنے پر خوشیاں منائیں اور وہ گورنمنٹ میں پیش کر دیا ان کی جاگیر بحال ہو گئی - دربار میں حاضر ہو کر نذر و نیاز پیش کی- خدام کو بھی بہت انعام دیئے- غرباءمیں خیرات دی-
اپور
راوی حضرت ذھین شاہ تاجی
چند دنوں کے بعد اہلیہ کا بھائی سخت بیمار ہوا اس کو بھی حصور بڑے دادا تاج الاولیاء کی خدمت میں لے جایا گیا وہ لوگ ابھی کچھ فاصلے پر تھے کہ بڑے دادا تاج الاولیاء فورا اٹھ بیٹھے اور پریشان ہو کر چند قدم چلے اور رک گئے - پھر ارشاد فرمایا :-
?مٹی میں جاتے ہیں، مٹی میں ڈال دے جی- مٹی کی خوراک کو کاہے کو لائے جی?
ناچار وہ لوگ بچے کو لے کر واپس ہوئے اور آٹھ دن بعد اس کا انتقال ہو گیا-
اپور
عبدالمجید صاحب (کامٹی -سی -پی) فائیننس مینیجر بائر فارما کو کراچی بیان کرتے ہیں یوسف علی صاحب رینجر (ساگر) کے بچے کے سر میں گنج ہو گئی تھی- انہوں نے اپنے ایک ہندو سپاہی کے ساتھ بچے کو دربار بابا میں روانہ کیا- سپاہی نے راستہ میں طے کیا کہ میں بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ سے اپنی ترقی کے لئے عرض کروں گا - جب بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کی خدمت میں حاضر ہوا- تو اپنی ترقی کی خواہش دل میں تھی- اور بچے کو بھولے ہوئے کھڑا تھا- اچانک حضور مجمع سے نکل کر اس کے سامنے آئے اور فرمایا ?آیا تھا کس کام سے اور سوچ رہا تھا کچھ? جا تیری ترقی بھی ہو جائے گی اور اس بچے کے سر پر تھوک دیا- بچہ اسی دن اچھا ہو گیا- اور چند روز بعد سپاہی کی بھی ترقی ہو گئی-
اپور
ماسٹر محمد حنیف صاحب کامٹی شریف کے رہنے والے ہیں، فرماتے ہیں کہ میرے خاندان کے بیشتر افراد فرقئہ اہلحدیث کے عقائد رکھتے ہوئے بھی حضور بڑے دادا تاج الاولیاء کے نہایت معتقد تھے اور اکثر و بیشتر حاضر خدمت ہوتے رہتے، مجھے بچپن کا وہ زمانہ خوب یاد ہے کہ جب میں دس گیارہ سال کا تھا اور میری ہمشیرہ جو آٹھ نو برس کی تھی اس کے ایک زخم تھا- علاج و معالجہ سے نا امید ہو کر آپریشن بھی کرایا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا- آخر کار والد صاحب ہمشیرہ کو بڑے دادا تاج الاولیاء کی خدمت میں لے گئے- حضور بڑے دادا تاج الاولیاء اس وقت ایک درخت کے نیچے قیام فرما تھے- ہم لوگ بڑے دادا تاج الاولیاء کی خدمت میں حاضر ہوئے- بڑے دادا تاج الاولیاء پر حالت استغراق طاری تھی اور گردن جھکائے بیٹھے تھے- والد صاحب ہمشیرہ کو کاندھے پر لادے کھڑے تھے ایک دو منٹ بعد حضور بڑے دادا تاج الاولیاء ہم پر نظر کئے بغیر خود بخود فرمانے لگے-
?ارے ارے ظالموں نے کیا کیا، بہت خون نکالا اور میری ہڈی تک چھیل دی- بڑے ظالم ہیں اب میرا اللہ مالک ہے رے-?
تقریبا نصف گھنٹہ بعد سر اٹھایا اور ہماری طرف دیکھا، ہم نے سلام عرض کیا اور والد صاحب نے ہمشیرہ کی علالت کا حال بیان کیا- حضور بابا نے فرمایا -
?اللہ ہے با، اللہ ہے با?
بڑے دادا تاج الاولیاء قبلہ کا مایوسانہ لہجہ تھا، میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ میری ہمشیرہ لا علاج ہے- ناچار ہم لوگ واپس ہوئے اور پانچ دن بعد ہی اس کا انتقال ہو گیا-
اپور
چٹانوں پر آیتیں کندہ
آستانئہ واکی شریف سے چار کلو میٹر کے فاصلہ پر کنہاں ندی ہے جو کافی چوری ہے کہیں کہیں ندی کے درمیان میں ابھری ہوئی چٹانیں ہیں - یہ چٹانیں ندی کے بہؤ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی ہیں- چٹانیں بہت خوبصورت ہیں ان کے گلابی، نیلے اور آسمانی رنگ بہت ہی بھلے معلوم ہوتے ہیں - سرکار تاج الدین ﺭﺿ واکی شریف کے قیام کے دوران چٹانوں پر کئی کئی روذ جا کر بیٹھ جاتے یہاں آپ کھانے پینے سے بالکل بے نیاز ہو کر بیٹھتے - آپ کے جلال کی وجہ سے کوئی قریب بھی نہ جاتا- یہاں بیٹھ کر آپ قرآنی آیات کا درد فرماتے سرکار والا نے وہاں بیٹھ کر جن آیات کی تلاوت فرمائی ہے اس کے کچھ حصہ ان چٹانوں پر کندہ ہو گئے ہیں - جو دکھائی دیتے ہیں بندی تاج مراری میں وہاں کے فوٹو دیئے گئے ہیں وہ فوٹو بالکل صاف نہیں ہیں اس لئے اس پر دوسری کاپی نہیں بن سکتی-
اس کی زیارت کی جا سکتی ہے -
قارئین کے علم میں یہ بات ہو گی کہ حضرت موسی علیہم السلام کی نشانیاں آج بھی کوہ طور پر موجود ہیں - حضرت آدم
علیہم السلام دنیا میں تشریف لائے تو ان کے قدم مبارک کا نشان کو لمبو (سیلون) میں زیارت گاہ عام ہے - ان کے علاوہ اور بھی مثالیں ملتی ہیں -
اپور
|