|
اپور
۳- خاصاحب عبدالرحمن خان تاجی کا بڑا لڑکا رشید الرحمن حضور کے سامنے کھیل رہا تھا بالکل گود کا بچہ تھا حضور اسے پیار سے دیکھ رہے تھے اس معصوم نے حضور کے بالکل قریب پیشاب کر دیا- خدام ناراض ہو کر کہنے لگے- اٹھؤ اس بچے کو آپ لوگ چھوٹے بچوں کو کیوں ساتھ لاتے ہیں- پاکی ناپاکی کا خیال نہیں رکھتے حضور سن کر خدام کی طرف متوجہ ہوئے اور ڈانٹ کر فرمایا رہنے دے رے آدمی کا بچہ ہے مطلب یہ ہے کہ محبت میں سب جائز ہے -
اپور
علی الدین صاحب ہاشمی سپرنٹنڈنت کھارو اسٹیٹ سینٹرل انڈیا سید ظفر حسین صاحب جو سرکار کے بہت چہیتے غلام تھے ان کے بہت گہرے دوست تھے- سرکار میں اکثر چھٹی لے کر حاضر ہوا کرتے تھے- اور حکیم ﺭﺿ صاحب کے مہمان ہوتے ایک روزگار نجہ کھیک میں حکیم صاحب، علی الدین صاحب حرمزجی صاحب کی چوری کی دوکان پر بیٹھے ہوئے تھے- علی الدین صاحب نے شکایتہ یہ جملے کہے کہ باوا صاحب ﺭﺿ اب ہمیں جلدی جلدی نہیں بلاتے کبھی دیدار بھی نہیں دیتے- یہ کہنا ختم ہوا تھا کہ سرکار نے اپنا تانگہ دکان کے سمانے رکوا دیا اور اتر کر علی الدین صاحب کی گردن تھام کر فرمایا ?تاج الدین کی لگی ہوئی سیاہی نہیں چھوٹتی- یہ فرما کر علی الدین صاحب پر یہ ثابت کر دیا کہ ہم تمہاری یاد کے ساتھ ہیں -
اپور
ایک روز سرکار کو ایک غلام نہ باوا کہہ کر مخاطب فرمایا- میرے آقا کے قربان، فرماتے ہیں ?میں تو تیری ماں ہوں رے? حقیقت یہی ہے مؤں سے زیادہ سرکار نے اپنے بچوں سے محبت فرمائی ہے-
اپور
احمد خان صاحب اکولے والوں کو سرکار نے واکی شریف کے اسپتال میں ٹھہرایا تھا- وہاں ان کو رات میں انگلی (سیاہ قسم کا بڑا بچھو) نے ڈنگ مار دیا- اس بچھو میں بے حد زہر ہوتا ہے- اس کے اثر سے خان صاحب کو بے حد تکلیف تھی- اور کافی پسینہ آ رہا تھا کوئی علاج کارگرنہ ہوا تب حضور کو اطلاع دی گئی میں اس رہبر پر قربان، خان صاحب کی محبت میں آپ کو جلال آگیا- اپنی چادر مبارک کو آسمان کی طرف تان کر فرمایا ? بیلاں بہت ستاتے ہیں? یاد رکھنا میرا نام تاج الدین ہے ! آج سے کسی نے میرے کسی بھی بچے کو چھیڑا تو تختہ زمین الٹ دوں گا? خان صاحب کا زہر تو سرکار کو خبر پہنچتے ہی اتر گیا تھا- اس روز کے بعد سے آج تک سانپ ، بچھو، یا کسی زہریلے جانور نے کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی-
اپور
واکی شریف میں جہاں پلنگ مبارک رکھا ہے- وہاں شیر اکثر حاضر ہو کر سلامی دیتا ہے- لیکن کبھی کسی کو غرا کر بھی نہیں دیکھتا- واکی شریف کے میدان میں بندر کافی تعداد میں ہوتے ہیں لیکن عرس واکی شریف کے دوران تےن ،چار روز بند ر بالکل غائب رہتے ہیں - واکی کے ششماہی عرس میں بھی بہت بڑا اجتماع ہوتا ہے جس میں عورتیں اور بچوں کی بھی کافی تعداد ہوتی ہے وہاں بندر کسی کو پریشان نہیں کرتے اس کے باوجود بچے اور عورتیں کہیں ان کو دیکھ کر ڈر اور خوف محسوس نہ کریں اس لئے وہ خود کہیں اور چلے جاتے ہیں- اللہ کے ولی کی یہ شان آج بھی دیکھی جا سکتی ہے-
اپور
سرکار تاج الاولیاءکے خدمت میں چند پٹھان حاضر ہوئے - ان لوگوں کو پھانسی کا حکم ہو چکا تھا- اپیل کرنا چاہتے تھے- سرکار سے دعاءکے لئے مرض کئے- سرکار نے فرمایا ?رولی میں ہمارے سجادہ سے دعا ءکرؤ? یہ لوگ ردولی شریف حضرت شاہ حیات احمد صاحب ﺭﺿ ردولی شریف کی گدی کے سجادہ نشین گورنمنٹ آف انڈیا کی طرف سے خان بہادر اور آنیری مجسٹریٹ ہونے کے علاوہ بہت بڑے جاگیرد ار بھی تھے- یہ لوگ جس وقت شاہ صاحب ﺭﺿ کی خدمت میں پہنچے شاہ صاحب ﺭﺿ تاش کھیلنے میں ایسے مصروف تھے کہ ان حضرات کی جانب کوئی توجہ نہ دی- یہ لوگ تھوڑ ی دیر انتظار کے بعد بد گمان ہو کر پھرناگپور سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء کی خدمت میں پہنچے- سرکار نے جلال میں فرمایا ?ہمارا سجادہ چاہے تاش کھیلے? کچھ بھی کرے تم کون ہو تے ہو؟ اگر پھانسی سے بچانا ہے تو اسی سے دعاءکرؤ - یہ لوگ تو بے حد پریشان تھے دوبارہ رد ولی شریف شاہ صاحب ﺭﺿ کی خدمت میں پہنچے - اس مرتبہ شاہ صاحب ﺭﺿ ﺭﺿ نے ان لوگوں سے دریافت کیا - تم لوگ پہلے بھی آئے تھے- اور بغیر کچھ بات بتائے چلے گئے- کیا معاملہ ہے- بتؤ ان لوگوں نے اپنے مقدمہ کی تفصیل معہ حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کے حکم کے بیان کی اور یہ عرض کیا کہ اب صرف آپ کی دعا کی ضرورت ہے- سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کے جملہ سن کر شاہ صاحب ﺭﺿ پر ایک خاص کیفیت طری ہوئی آپ نے دو رکعت نماز شکرانہ ادا کر کے بہت دیر تک روتے ہوئے سجدہ میں سر رکھ کر دعا کی- سجدہ سے سر اٹھا کر ان لوگوں سے فرمایا ?جاؤ تمہارا بھی کام ہو گیا اور میرا بھی کام ہو گیا-?
اپور
راوی حضرت یوسف شاہ تاجی
ایک روز فرمایا حضور بڑے دادا تاج الاولیاء کبھی کبھی مزاح بھی فرمایا کرتے تھے-
ایک صاحب نے شکایت کی کہ حضور تک رسائی ہونا امر دشوار ہے، کوئی تدبیر بتائیے، ارشاد ہوا:-
?حضرت بیلوں سے سلام کرتے ہیں اور آجاتے ہیں?
وہ بےچارے جہاں کہیں شکردرہ کے آس پاس بیلوں کو دیکھتے ان سے سلام کرتے پھر بھی حاضری کا موقعہ نہ ملتا مجبورا انھوں نے حضور کے ارشاد کا مطلب ہم سے پوچھا، ہم ن کہا مطلب یہ ہے کہ ان پہلوانوں سے جو دربانی کرتے ہیں سلام کیا کرو، انھوں نے اس پر عمل کیا اور حاضری میں کامیاب ہو گئے-
اپور
ایک روز فرمایا کہ بڑے دادا تاج الاولیاء حاضر و غائب اپنے بچوں کے محافظ و نگراں ہیں، مشکلات میں حاجت روائی پریشانیوں میں عقدہ کشائی آپ کی عادت خصوصی ہے جو مافوق العادات صورتوں میں ظاہر ہوتی رہتی ہے -
اپور
بڑے دادا تاج الاولیاء اپنے بچوں پر نہایت مہربان و شفیق تھے، آپ کا قو ہم بڑھ کر اس کی آنکھیں نکال لیتے ہیں، یہاں دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں (کلمہ دانی بیچ والی سے ) بڑے دادا تاج الاولیاء نے اشارہ فرمایا
دست پیراز غائبان کوتاہ نیست
دست اوجز قبضئہ اللہ نیست
اپور
شرف الحق صاحب ایم اے اور ایل ٹی کے امتحانات کے شرف الحق اس جز کو سن کر بہت مغموم ہوئے اور پڑھائی سے طبعیت بالکل اچٹ گئی امتحانات قریب تھے کہ حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء قبلہ کو خواب میں دیکھا کہ انھیں گود میں بچوں کی طرح بہلا رہے ہیں اور فرمارہے ہیں :-
?بیٹا غم نہیں کرتے ، دنیا فانی ہے- دیکھو میں بھی نہیں رہا سب کا حشر یہی ہونا ہے،
اپنا دھیان اور توجہ پوری پوری پڑھائی میں لگا رکھ اور صبر کر ?
صبح کو ان کے دل میں اطمینان کی کیفیت پیدا ہوئی اور توجہ سے امتحانات کی تیاری کرنے لگے، آخر دونوں امتحانات میں کامیاب ہوئے-
اپور
حضرت مولانا عبدالرکیم شاہ صاحب ﺭﺿ کے ایک خلیفہ اقبال صاحب کا تاج آباد شریف میں کچھ دن قیام رہا سرکار نے انہیں کچھ نواز بھی دیا تھا- دربا ر میں کچھ ناجائز حرکت دیکھ کر ان کو صدمہ ہوا - ناجائز حرکت کرنے والوں کی انہوں نے پٹائی کر دی-
اس کے بعد سرکار کو خواب میں دیکھا جن لوگوں کی اقبال صاحب نے پٹائی کی تھی ان کے کپڑے سرکار ایک تالاب پر دھو رہے ہیں یہ دوڑے ہوئے سرکار کے قریب پہنچے اور سرکار سے عرض کی - یہ خدمت مجھے سپرد کر دیجئے اس پر شفیع المرنبیسن کے لاڈلے نے فرمایا
?ہمارے بچوں کے گندے کپڑے ہم ہی دھوتے ہیں ?
حضرت مولانا ﺭﺿ کو اقبال صاحب نے پورا واقعہ لکھ کر روانہ کیا- حضرت مولانا ﺭﺿ نے فورا جواب دیا- ہم نے تجھے دربار میں لوگوں کے عیب دیکھنے کے لئے نہیں رکھا فورا دربار سے نکل جاؤ-
محمد فرید خاں صاحب فضا ، حال مقیم کراچی، ایک صاحب زھد و تقوی بزرگ ہیں ۱۰۹۱ءسے حضور تاج الاولیاءبابا تاج الدین علیہ الرحمة کی خدمت میں برابر حاضر ہوتے رہے- آپ اُس وقت ناگپور انجمن اسکول میں ہیڈ ماسٹر تھے-
اپور
یہ ۸۱۹۱ءکا واقعہ ہے، میں لال محل کے سامنے ، سائبان میں پر تکلف فرش بچھا ہوا تھا بڑے دادا تاج الاولیاء زرنگار قالین پر ریشمی عمامہ زیب سر کئے ہوئے تشریف فرما تھے - کم از کم دو ہزار افراد مؤدب صف بستہ چاروں طرف حاضر تھے- سماع ہو رہا تھا، بغرض قدم بوسی میں بھی ذرا آگے بڑثا، مگر حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء کے رعب و داب اور تزک احتشام دیکھ کر میری ہمت نہ ہوئی کہ مزید آگے بڑھوں دور ہی سے تعظیما جھکا اور سلام نیاز عرض کر کے سید احمد صاحب پٹیل کے پاس چلا گیا -
پٹیل صاحب کئی مواضعات کے مالک - اور ایک ممتاز زمیندار تھے، بڑے دادا تاج الاولیاء کے برے فدائی تھے، آخر میں تارک الدنیا ہو کر بڑے دادا تاج الاولیاء کی خدمت میں حاضر ہو گئے تھے، وہ اس زمانے میں اسی بؤلی میں مقیم تھے جہاں حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء یوسف شاہ تاجی ﺭﺿ کو حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء نے بٹھایا تھا -
میرے پہنچتے ہی پٹیل صاحب نے مجھ سے استفسار کیا کہ بڑے دادا تاج الاولیاء کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہوا- میں نے عرص کیا نہیں؟ حضرت کے شاہانہ رعب و جلال کی وجہ سے میری ہمت نہیں پڑی کہ قدم بوسی کا شرف حاصل کرتا- دور ہی سے سلام کرکے چلا آیا پھر کبھی حاضر ہو جاؤ گا-
پٹیل صاحب نے فرمایا کہ بیٹھو ، حضور ابھی تشریف لاتے ہیں، اس بات کو بمشکل پانچ منٹ گذرے ہوں گے کہ مجمع اور ہجوم کی سی آوازیں آنی شروع ہو ئیں- ہم نے آگے بڑھ کر دیکھا تو سب سے آگے حضور اور ان کے پیچھے مجمع چلا آ رہا ہے میں اور پٹیل صاحب باولی کے سہارے کھڑے تھے - حضور سیدھے ہمارے پاس تشریف لائے میں نے قدم بوسی کی، حضور نے فرمایا، چلو ?حضرت جنگل چلتے ہیں ?
اپور
حاجی احمد ڈاما تاجی حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کے ان بچوں میں ہیں جو بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کے نام پر تن من دھن قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں- سرکار تاج الاولیاءکا ان پر خصوصی کرم ہے اس کے باوجود ان کی انکساری کا یہ حال ہے کہ خود کو سرکار کا کمینہ کتا کہتے ہیں- قارئین مندرجہ واقعہ سے اندازہ کریں کہ میرے آقا کا ان پر کتنا کرم ہے - ہری مسجد بھیسم پورہ میں حضرت امام شاہ بخاری ﺭﺿ کا مزار مبارک ہے ڈاما صاحب وہاں پر انے حاضر باش ہیں ۱٦۹۱ءکی ایک حاضری میں ان کے ساتھ ایک خصوصی واقعہ پیش آیا جو ان کی زبانی پیش قارئیں ہے- (قاضی محمد علی تاجی)
۱٦۹۱ء میں ? میں حضرت امام شاہ بخاری ﺭﺿ کے مزار مبارک پر حسب معمول حاضر ہوا- فاتحہ پڑھ کر مزار شریف سے باہر آیا- تو روڈ پر ایک سفید ریش- نورانی چہرہ کے بزرگ کو میری طرف آتے دیکھا وہ بزرگ میرے سامنے آ کر کھرے ہو گئے اور مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا - ?مجھے کچھ دو?
ان کے اس سوال پر میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں تو ایک ماڈرن آدمی ہوں یہ چہرہ اور لباس سے بزرگ معلوم ہوتے ہیں - میں انہیں کیا دے سکتا ہوں- چنانچہ میں نے ان کو مزار مبارک کی طرف ہی رجوع کرنا مناسب سمجھتے ہوئے ان سے عرض کیا آپ اندر جا کر حاضری دیں اور فاتحہ پڑھیں -
اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا ? مجھے اندر جانے کی ضرورت ہے اور نہ فاتحہ پڑھنے کی یہ فرما کر وہ درگاہ کے مجاور کے پاس گئے میں دیکھتا رہا- لوٹ کر پھر میرے پاس آئے اور مجاور کی طرف اشارہ کر کے مجھ سے کہا- نہ وہ مرد ہے اور نہ تو مرد - ان کے یہ الفاظ سن کر مجھے خیال ہوا کہ یہ تو کچھ روحانیت کی بات کر رہے ہیں اس پر میں نے ان سے عرض کیا اگر آپ میں طاقت ہے تو مر د بنا دیجئے- اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا- تم بمبئی اور دیگر جگہ جاتے رہتے ہو اور مجھے کچھ نہیں دیتے، یہ فرماتے ہی ان کی کچھ عجیب کیفیت ہوئی اور مجھ سے فرماتے لگے تمہاری آواز اب مجھے کچھ جانی پہچانی لگ رہی ہے تم بتؤ تم کون ہو یہ سننا تھا کہ مجھ پر ایک کیف طاری ہو گیا اور یہ محسوس ہوا کہ میرے اندر سے کوئی بول رہا ہے اور
لیکن میرے اندر جو قوت پیدا ہو گئی تھی اس کی وجہ سے میں اپنی جگہ اسی طرح کھڑا تھا- یکایک میری زبان سے پھر وہی الفاظ نکلے- اندر جاؤ اور حاضری دے کر فاتحہ پڑھو چنانچہ وہ میرے ہمراہ اندر درگاہ میں گئے اور وہاں فرمایا میں ولی اللہ - میرا بھائی لال شاہ ولی اللہ- میں نے نظام الدین اولیاءمیں حاضری دی- خواجہ غریب نواز ﺭﺿ میں حاضر ہوا- لیکن بابا تاج جو تو نے دیا وہ کسی نے نہیں دیا- یہ فرما کر میرا ہاتھ لے کر چومنا شروع کیا اور پھر منہ میں لے کر چومنا شروع کیا- اس وقت مجھے یہ خیال آیا کہ یہ کہیں ہاتھ چبا نہ لیں- یہ خیال آتے ہی، انہوں نے رو - رو کر فرمایا- تاج بابا اگر آپ نے معاف نہیں کیا تو مہیں کہیں کا نہیں رہوں گا- ان کے یہ الفاظ سننے کے ساتھ ہی سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ نے مجھے ایک ایسی روشنی عطا کی جس سے یہ سمجھ میں آیا کہ سرکار فرما رہے ہیں ہمارے بچے کو نا مرد کہنے والے کو ہم اس طرح نا مرد بنا دیتے ہیں - اسی وقت انہوں نے میرا ہاتھ تو چھوڑ دیا لیکن گڑ گڑا رہے ہے- میں ان کو وہیں در گاہ چھوڑ کر روانہ ہو گیا اس کے بعد ان سے میری ملاقات نہیں ہوئی-
بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کے بچہ کو نا مرد کہنے والے حال آپ نے دیکھا- حقیقت یہی ہے کہ بابا کے ادنی سے ادنی بچے کی سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء اسی طرح نگہبانی فرماتے ہیں - یہ واقعہ تو بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کے سچے بچے غلام کا ہے- میرے آقا تو جھوٹے سچے نام لینے والوں کا بھی کام چلاتے ہیں -
اپور
یہ اللہ والے لوگ اپنے نفسوں کو خوب جان لیتے ہیں - اور اپنی عبادت ریاضت - مجاہدہ سب اسی کے لئے کرتے ہیں - نہ ان کو دوزخ سے غرض اور نہ جنت کی خواہش اسی سلسلہ کا ایک واقعہ پیش ہے-
حضور اپنے بچوں کے اجتماع کو میری پلٹن کہ کر مخاطب کرتے تھے ایک روز اپنی پلٹن سے مخاطب ہو کر فرمایا ?جو جنت میں جانا چاہتا ہے- ہاتھ اٹھائے ہینڈز آپ خوشی میں قریب قریب ساری پلٹن نے ہاتھ اٹھائے اس کے بعد فرمایا ?ہینڈز ڈؤن، ہاتھ نیچے کرو اس کے تھوڑی دیر بعد فرما یا? اچھا ! اب جو ہمارے ساتھ رہنا چاہتا ہے ہاتھ اٹھائے ہینڈز آپ اس مرتبہ صرف ان حضرات ہی نے ہاتھ اٹھائے جن کو سرکار نے فہم عطا کی تھی - یہ مظاہرہ چلتے چلتے ہو رہا تھا جن موخر الذکر غلاموں نے یہ سمجھ کر ہاتھ اٹھایا تھا کے ?دوزخ ہمیں پسند ہے ہمراہ آپ کے? ان کے لئے فرمان ہوا تم ہمارے ساتھ رہو سرکار نبی کریم ﷺ شفیع المرسلین ﷺ ہر عاصی کی شفاعت کر کے ہی روانہ ہوں گے - ہمارے زمانہ میں بھی ان کے مظہر نے ہم پر اسی طرح کی شفقت کا مظاہرہ فرمایا کہ ہر برے کو اپنی آغوش رحمت میں رکھ کر دکھایا- کہ ہم ہیں اس ذات رسالت مآب ﷺ کے مندرجہ ذیل حدیث شریف کے عامل - شفاعی لذہل الکبائر من امتی-
مندرجہ بالا واقعہ سے ہمیں یہ تعلیم ملتی ہے- کہ عبادت، ریاضت ، جنت کے لئے نہیں، بلکہ صرف اور صرف اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے انجام دو- اللہ والے صرف اللہ سے محبت کرتے ہیں -
اپور
میرے سرکار نے فرمایا تھا کہ میں قبر میں ٹھونس ٹھونس کر بھر دوں گا? آپ کے ایک بچے کے آخری لمحات سے چند روز قبل جو سنا اور دیکھا وہ پیش قارئین ہے-
جناب ڈاکٹر محمد بشیر صاحب ﺭﺿ کا قیام ناگپور شریف میں رہا- وہاں کے سرکاری اسپتال میں آپ ڈاکٹر رہے- سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ ایک مرتبہ ان کے مکان پر بھی رونق افروز ہوئے تھے - کراچی میں حضرت قاضی باب ﺭﺿ سے بے حد محبت فرما تے تھے رمضان شریف میں بیمار ہوئے - (میں (قاضی محمد علی تاجی) عیادت کے لئے ان کی خدمت میں گیا- تو آپ نے فرمایا ?پریشان ہونے کی ضرورت نہیں میں ابھی نہیں جاتا? چھ روز بعد پھر ان کی خدمت میں حاضر ہوا- تو مجھے دیکھتے ہی سینہ ٹھونک کر فرمایا - میاں میرا سینہ نور سے مامور ہو گیا ہے- اب بلائیں گے تو چلا جاؤں گا- چنانچہ ۴۲ رمضان المبارک کو آپ کا وصال ہوا - ان ہی بزرگ نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا تھا ?میں فرید خان صاحب فضا ﺭﺿ کو ایک بات کہنا بھول گیا - وہ یہ کہ اللہ عزو جل جب واپس بلاتے ہیں تو ہمارے ان بزرگوں کو جو پہلے پردہ کر چکے ہیں لا کر سامنے کر دیتے ہیں- میں یہ بتانا چاہتا تھا کہ کوئی آئے نہ جاتا جب تک بڑے دادا تاج الاولیاء تشریف نہ لائیں - اللہ اللہ جس آقائے بچوں کی یہ شان ہو اس آقا کے متعلق کیا لکھا جا سکتا ہے- ڈاکٹر صاحب بھی خانقاہ مجدیہ تاجیہ لیاقت آباد میں آرام فرما ہیں -
اپور
ماہ نامہ اردو ڈائجسٹ میں بابا تاج الدین ﺭﺿ سے متعلق واقعات ?تاج الدین ﺭﺿ بابا? کے عنوان سے شائع ہوئے تھے۔ ان واقعات کے راوی خان رشےد صاحب ہیں ۔ ماہ نامہ اردو ڈائجسٹ کے شکرےے کے ساتھ ان واقعات کی تلخےص پیش کی جارہی ہے۔
اپور
نوجوان عثمان اسسٹنٹ اسٹےشن ماسٹر کی حثیت سے ناگ پور تعینات کیا
گیا۔ اس نے جس بنگلے میں قیام کیا وہ آسےب زدہ مشہور تھا۔ لوگوںنے اسے پہلے پیش آنے والے واقعات سنا کر بنگلے میں قیام کے ارادے سے یاد رکھنا چاہا ۔ انگریز اسٹےشن ماسٹر، نورص نے بھی منع کیا ۔ لیکن اس نے ان باتوں پر توجہ نہ دی۔ رات کو بارہ بجے جب عثمان بستر پر لےٹا ہوا تھا، باہر کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی ۔ پھر کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی ۔ اور چےخےں بلد ہوئےں ۔ کچھ ہی دےر گزری تھی کہ بنگلے کے اطاطے میں ایک زور دار قہقہ گونجا ۔ اور کسی کے دوڑنے کی آواز آئی ۔ صبح عثمان کمرے سے باہر نکلا تو یہ دیکھ کر حیران رہ
گیا کہ بر آمدے میں ہلدی میں پکے ہوئے چاول اور مٹی کی ایک ہنڈ یا ٹوٹی پڑی تھی۔ اگلی رات بھی اس سے ملتا جلتا شور سنائی
دیا ۔اور صبح برآمد ے میں ایک انسانی ہاتھ پڑا ہواملا ۔
ان حالات کے باعث عثمان کے اعصاب جواب دے گئے اور اگلی رات اس نے ایک ہوٹل میں گزاری۔ حسبِ عادت صبح عثمان جب چہل قدمی کے لئے نکلا تو ایک جگہ لوگوں کا ہجوم دیکھ رک
گیا سبز پوش بوڑھے کے پےچھے لگاہو اتھا جو منہ ہی منہ میں کچھ بول رہا تھا۔ اس دوران بوڑھا ٹانگے میں سوار ہو کر ایک طرف روانہ ہو
گیا۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہ بزرگ تاج الدین باب ﺭﺿ ہیں۔ عثمان پہلے بھی تاج الدین بابا کا تذکرہ ایک ولی اللہ کی حثیت سے سن چکا تھا۔
اپور
سےر کے دوران عثمان کالج کے قریب سے گزررہا تھا کہ ایک ہم وطن عبدالغفار نے آواز دی۔ وہ ان دنوں قانوں کا طالب علم تھا ۔ اس کے
جیل پور کے دو اور ساتھی فضل الکریم اور عباسی بھی اس کے ساتھ تھے۔
نہیں عثمان کی آمد کا علم ہو تو خوشی میں چائے پر مدعو کر لیا۔
مقبر رہ وقت پر وہ ہاسٹل پہنچ گیا۔ چلو چائے شہر میں پئےں گے۔ ?نے کہا موقع ملا تو تاج الدین بابا سے بھی مل لےں گے۔
سارے راستے اسی نو ع کی گفتگو ہوتی رہی ۔ اسی میں معراج کا مسئلہ چل نکلا فضل الکریم روحانی اور عبدالغفار جسمانی معراج کے قاتل تھے۔ ایک اچھے سے ہوٹل میں چائے پی کر وہ لوگ شکردرہ پہنچے تو وہاں عجےب منظر دیکھا۔ ایک فوٹو گرافر بڑا سا کےمرا تپائی پر جمائے بابا ﺭﺿ کی تصویر لےنا چاہتا تھا۔ اور وہ اس پر رضامند نہ تھے۔ تاہم اس کے اصرار پر کرسی پر بےٹھ گئے مگر وقت پر ہل جاتے تھے۔ فوٹو گرافر افسردگی سے بولا۔بابا! میں تو آپ کی تصویر فروخت کر کے بال بچوں کا
پیٹ پالنے کی فکر میں تھا مگر آپ کو ذرا خیال
نہیں ?۔
? کیا بولا رے کیا بولا !? بابا تڑپ گئے۔ لے اچھا اتار لے مٹی کی تصویر?۔ تصویر کھےنچ لی گئی ، فوٹو گرافر خوش ہو
گیا۔ معاًبابا کی نگاہ ان چاروں پر پڑی تو تےوری پر بل پڑ گئے ۔ اور بولے ،?انگریزی پڑھ کے آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضور?? کو معراج روحانی ہوئی تھی ?۔
چاروں چونک پڑے اور باب ﺭﺿ اپنے حجرے کی طرف دےے۔ اب نہیں باب ﺭﺿ کے سامنے جانے کی ہمت نہ تھی، واپسی کا ارادہ کیا مگر عثمان اور عبدالغفار آگے بڑھے ایک خدمت گار باب ﺭﺿ کے پاﺅں داپنے کی کوشش کر رہا تھا۔ بابا نے اسے منع کر
دیا ۔ اور عبدالغفارکی جانب دیکھ کر بولے لے رے لڑکے تو پےر دبا?۔
عثمان نے بھی شامل ہونا چاہا لیکن بابا ﺭﺿ نے اسے منع کر
دیا۔ عبدالغفار نے پنڈلی کو ہاتھ لگیا تو وہ بے حد سخت تھی۔ بابانے پٹھے اکڑا لئے تھے۔ دومنٹ بعد اس نے ہاتھ روکتے ہوئے کہا ۔ بابا آپ تو پنڈلی اکڑ ائے بیٹھے ہیں پاﺅں کےسے دباﺅں ؟?
تو ڈھےلی کر لے نا ، لگا سائنس کا زور!?
اس میں سائنس کام نہیں آتی ۔ آپ خود پاﺅں ڈھےلا چھوڑ دےجے ۔? وہ پہلے ہنسے اور کچھ دےر خاموش رہنے کے بعد بولے۔ تو اچھا لڑکا ہے بتا کیا چاہتا ہے۔ بابا! پڑ ھ لکھ کے نوکری تو مل جائے گی مگر خدا کےسے ملے ؟ وہ قدرے چونک کر کہنے لگے۔ محنت کرکے بچے پالتے خدا مل جاتا جی۔ فضل الکریم اور عباسی داخل ہوئے تو ہ ادھر متوجہ ہوگئے۔ کےوں رے ! اب بتا حضور ﷺ کو معراج روحانی ہوئی کہ جسمانی؟ دونوں نے کوئی جواب
نہیں دیا ۔ عبدالغفار بولا ۔ بابا غلطی ہوئی ، معاف کردو ۔
وہ خوش نظر آئے پھر ےوں گویا ہوئے ۔ کرسی پر بےٹھو گے۔ فوٹو اترواﺅگے۔ پھر سمجھ میں آجائےگا۔ اچھا اب تم جاﺅ۔
اپور
عثمان عرض مد عانہ کر سکا اور اٹھ کر چلنے ہی والا تھا کہ باب ﺭﺿ کی آواز آئی ۔ اونالائق ! تو کائے کو ڈرتا ہے؟ ڈنڈا رکھ کے سونا۔ وہ آئےں گے۔ ماردےنا ۔ عثمان ان کی طرف متوجہ ہو ا تو ہنس کے بولے ۔ تےری سمجھ میں بھی آجائے گا۔ معراج جسمانی ہوئی کہ روحانی۔
پھر دوسرے لوگوں کی جانب متوجہ ہو گئے اور مخصوص انداز میں بولنے لگے۔ اسی لمحے عثمان کو بنکٹ راﺅ گارڈ اندر کونے میں بےٹھا نظر آیا ۔وہ ٹکٹکی باندھے بابا کو دیکھے جا رہا تھا۔ اس وقت چھ بجے تھے۔ اور بنکٹ راﺅ کو سوا چھ بجے والی گاڑی لے کر بمبئی جانا تھا ۔ لیکن ابھی تک اس نے وردی بھی
نہیں پہنی تھی۔ اور اتنے کم وقت میں وہ اسٹےشن مشکل ہی سے پہنچ سکتا تھا۔ بابا نے بنکٹ راﺅ کو ?سلمان ? کہ کر مخاطب کیا اور آہستہ سے کچھ کہا۔ اس پر وہ مسکردیا لیکن اسی جگہ بےٹھا رہا ۔
یہ چاروں بابا تاج الدین کی روشن ضمیری سے بے حد متاثر ہو کر اٹھے ۔ عثمان کر تو جیسے چپ ہی لگ گئی تھی۔ ڈنڈا رکھ کے سونا ، وہ آئےں گے۔ مردےنا ? بابا کے الفاظ اس کے ذہن میں گونج رہے تھے اور وہ ان کے مفہوم سے بے خبر تھا ۔ پھر سوچنے لگا ، ڈنڈے سے کیا بنے گا۔
راستے میں عثمان نے تفصےل سے آسےبی بنگلے کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے دوستوں کو بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کی ہدایت بتائی کہ ڈنڈا رکھ کر سونا ۔ وہ سب حیران رہ گیئے اور معمہ حل نہ کر سکے۔ پروگرام بنا کہ پہلے اسٹےشن پر چائے پی جائے اور پھر بھوت بنگلہ کی سےر کی جائے عثمان نے کہا ۔ میں بنکٹ راﺅ کے بارے میں سوچ رہا ہوں ۔ اسے سوا چھ بجے پستجر لے کر اٹاری جانا ہے لیکن وہ تو بابا کے پاس بےٹھا ہے اور واپس آتا نظر بھی
نہیں آیا ۔ سوا چھ بجنے میں ایک منٹ باقی ہے۔ ?
فضل الکریم نے بے ساختہ پوچھا۔ یہ وہی گارڈ تو نہیں جو دوہری شخصےت کی وجہ سے مشہور ہے۔ بیک وقت بابا کے پاس رہتا ہے اور ڈےوٹی پر بھی سنتا ہے بڑے دادا تاج الاولیاء کا خص معقد اور فنانی الشےخ ہے۔ ? وہ سےدھے اسٹےشن پہنچے اور پلےٹ فارم پر قدام رکھا ہی تھا کہ اٹاری پسنجر سےٹی دے کر روانہ ہوئی ۔ گارڈ کا ڈبہ سامنے سے گزرا اور وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ بنکٹ راﺅ وردی میں طبوس سبز چھنڈی ہلا رہا ہے۔ پھر اس نے
نہیں سر کی جنےش سے سلام کیا اور دور تک مسکراتا رہا ۔ بنکٹ راﺅ کا اتنے کم وقت میں اسٹےشن پہنچ جانا ان کے لئے معما بن
گیا۔ پےھر ایک ساتھی نے تجوےز پیش کی ہمیں بابا جی کے پاس جا کر تمام واقعے کی تحقےق کرنی چائےے۔ وہ لوگ دوبارہ شکردرا پہنچے۔ فضل الکریم اور عباسی سڑک ہی پر رک گئے کہ بابا جی کے سامنے جاتے ہوئے ہچکچاتے تھے۔عبدالغفار اور عثمان نے ہمت کی حجرے میں مےلاد شریف کا غفلہ بلند انہوں نے جھانک کر دیکھا ۔ سلام پڑھا جار ہا تھا ۔ بابا جی حالت وجد میں جھوم رہے تھے۔ اور بنکٹ راﺅ کے قریب مود ب کھڑا تھا۔ باباجی کی آنکھیں بند تھیں اور ان سے اشک رواں تھے۔
اپور
ارے نوج ! درود پڑھو۔ بڑے سر کار کی سواری آرہی ہے۔ ورود کا غلفلہ بلند ہوا اور یاک لطےف سی خوشبو پھےل گئی۔ سلام پڑھا جا چکا تھا۔ بابا جی فرش پر بےٹھ گئے اور ذرا فاصلے پر بنکٹ راﺅ بھی ۔ وہ دونوں حجرے کے دوروازے کی اوٹ میں کھڑے تھے۔ اس حےرت انگےز مشاہدے کے بعد الٹے پاﺅں اطاطے کے پھاٹک کی جانب لپکے جہاں تانگے پر ان کے ساتھی منتظر تھے۔ پھر ایک عجےب منظر دیکھ کر ٹھٹک گئے۔ عباسی اور فضل الکریم تھر تھر کانپ رہے تھے۔ باباجی خودان کے سامنے موجود تھے اور ان پر جلال کی کےفےت طاری تھی۔ انہوں نے پلٹ کر حجرے کی طرف دیکھا تو ان کو اپنی آنکھوں پر اعتبارنہ آیا۔ بابا حجرے میں تھے۔شاید یہ کوئی دوسرے بزرگ ہوں اسی لمحے بابا جی کی جانی پہچانی آواز نے ان کا شبہ دور کر
دیا ۔ مگر وہ کب اور کےسے وہاں پہنچے جب کہ راستہ صرف وہی تھا۔ وہ حےرت کی تہوں میں اترتے جارہے تھے۔
? انگریزی پڑھنے والو ! بتاﺅ، حضور کو روحانی معراج ہوئی تھی؟ تاج الدین بابا کی آواز میں غصہ غائب تھا۔? اب لڑاﺅ اپنی سائنس !?
معاف کر دےجئے بابا جی ! غلطی ہوئی ۔ ? عبدالغفار نے عاجزی سے کہا ۔ وہ فوراً ادھر متوجہ ہوئے۔ ان کی تےوری پر بل تھے اور چہرے پر ملال اور ناگواری کا عکس ۔? نامعقول تو پھر آگیا ! جا تےرا عہدہ گھٹدیا۔ ?
ان کے بھپرے تےور دیکھ کر عثمان عبدالغفار کی اوٹ میں دبک گیا۔ اس کی سر اسمگی دیکھ کر بابا کو ہنسی آگئی ۔ تو کائے کو ڈرتا ہے عثمان ! ڈنڈا رکھ کے سجا۔۔ سلےمان کی ٹوہ نہ کرنا ، اپنی ٹوہ لگانا ۔ پھر سمجھ میں آجائے گا معراج کس کو بولتے ہیں ۔
اس رات بھوت بنگلے کا پروگرام ملتوری کر کے وہ تینوں کالج ہوسٹل چلے گئے اور عثمان بنگلے واپس آگیا ک۔ اس رات کوئی خاس واقعہ پیش آیا۔
اپور
اگلی صبح عثمان اسٹیشن کی طرف روانہ ہوا ۔ چوتھے بنگلے کے ڈاکر چودھری کی تختی اس نے پہلے بھی دیکھی تھی جس پر خاصے موٹے حروف میں اس کی ڈگریاں کندہ تھیں مگر اس وقت وہ ساری ڈگریاں ایک خوبصورت چہرے کی اوٹ میں چھپ گئیں۔
ٹامی! ٹامی! ایک باریک نسوانی آواز بلند ہوئی ۔ اس ن یایک چھوٹے سے کتے کو دم ہلاتے دیکھا۔ پھر وہ خوبصورت چہر ہ اندر چلا گیا۔ اس خاتوں کا ذکر اس سے کسی دوست نے کیا تھا۔ اس کا نام للیا دیوی تھا۔ وہ ڈاکٹر چودھری کی بیوی تھی اور ڈاکٹر چودھری ریلوے میں اچھے مشاہرے پر ملاز م تھے۔
اس رات دو بجے کے قریب اچانک عثمان کی آنکھ کھلی ۔ باہر احاطے میں قدرے مغنی آواز میں وحشت خیز قہقہہ بلند ہوا۔ کسی کے بھاگنے کی آہٹ سنائی دی ۔پھر بجلی کی طرح اسے بابا کے الفاظ یاد آئے۔ عثمان نے ڈنڈا سنبھالا۔ ٹارچ اٹھائی اور جی کڑا کر کے دروازے کا پٹ کھول دیا ۔برآمدہ بالکل سنسان تھا۔ ٹارچ کا رخ بڑے لان کی طرف مڑا تو سوکھے گملوں کی اوٹ میں دو سُرخ سُرخ انگارے چمکے اور غائب ہوگئے۔اُسے آگے بڑھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اور دہشت سے جُھر جُھر ی آگئی۔ وہ اندر آیا اور دوبارہ بستر پر روانہ ہوگیا ۔ زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ کمرے کے اندر ہیبت ناک چیخ بلند ہوئی اور اس کی آنکھ کُھل گئی ۔ ڈنڈا مضبوطی سے تھام لیا۔ پھر دس منٹ بعد چھت کی پرا سرار آوازیں اچانک مد ہم ہوگئیں۔ عثما ن کی نظر روشندان کی ڈوری پر چلی گئی۔ وہ ہل رہی تھی ۔ بالائی سرے پر کوئی چیز رسی سے لپٹی نظر آئی۔ دُھندلا اور پراسرار ہیوئی رسی پر سر کتا ہوا نیچے کی طرف آیا ۔ اس کے تعاقب میں ویسا ہی ایک اور سایہ دکھائی دیا ۔ وہ رسی کے سہارے فرش پر اترے اور سر کتے ہوئے چارپائی کی جانب بڑھے ۔ عثمان نے تاک کر دونوں کے سر کچل دیے۔ اور اسی لمحے بابا کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجنے لگے ۔ کیا اور بھی آئیں گے؟ وہ سوچنے لگا۔
سانپوں کے مرجانے کے بعد صبح تک کوئی پراسرار آواز نہ آئی ۔ چڑیاں چہچہانے لگیں۔ عثمان اٹھا۔ لباس تبدیل کیا۔ اور مردہ سانپ وہیں چھوڑ کر باہر نکل آیا۔ چند چڑیاں برآمدے میں بکھرے ہوئے زرہ چاول چگ رہی تھیں۔ احاطے میں آیا تو رات کے پراسرار قہقہے اس کے ذہن میں اجا گر ہوگئے۔ گملوں کی اوٹ میں جدھر دو انگارے سے چمکے تھے ، اُدھر نگاہ دوڑائی تو اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ خشک اور ویران لان میں خون کے تازہ دھبے دکھائی دیے۔ اس کے قدم رک گئے۔ دوسری جانب سے لمبا چکر کاٹ کر گیٹ کی جانب بڑھا ہی تھا کہ وہاں ایک تانگہ آکر رُکا۔ آنے والے عبد الغفار اور فضل الکریم تھے۔
عثمان نے ان کو سارے واقعات سنائے اور جائے وقوع دکھائی۔ فضل الکریم نے بنگلے کا بغور جائزہ لیا۔ اور سب کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا ۔ وہ قریباً ایک فرلانگ کے فاصلے پر واقع بھنگیو ںکی بستی میں پہنچا۔ وہاں پوچھنے پر معلوم ہوا کہ بھگوت نامی بھنگی کا کتا غائب ہے۔ فضل الکریم نے بستی کے مکینوں کو بتایا کہ کتے کو کسی نے مار دیا ہے۔ یہ سن کر لوگوں نے کہا کہ اس کتے کی شرارتوں سے تنگ آکر اُسے بستی سے باہر نکال دیا گیا تھا۔ اور اس نے ایک مرگھٹ میں رہائش اختیار کر لی تھی۔ اس کی عادت تھی کہ رات گئے مرگھٹ سے لوگوں کے گھروں میں آکر چیزیں چرالے جا تا تھا۔ وہ ہنڈیاں لے کر بھاک گا نا اور ہندیا کو زور سے زمین پر مار کر توڑدیتا اور کھانا کھا لیتا تھا۔ اس انکشاف سے سب کو پتہ چلا کہ بھوت بنگلے میں پائی جانے والی ہنڈیا اور چاول بھگوت کے کتے کی کارستانی تھی۔ فضل الکریم سب کے ساتھ دوبارہ بنگلے آیا۔ اور وہاں خون کے دھبوں کے قریب پائے جانے والے نشانا ت کو دیکھ کر بتایا کہ ان کی نشانات کی وجہ سے اس کا ذہن بھوت بنگلے کے واقعات کا سراغ لگانے میں کامیاب ہو اہے ۔فضل الکریم نے انکشاف کیا کہ وہ نشانات لکڑ بگّے کے پیروں کے ہیں جو کتے کا گوشت شوق سے کھا تا ہے ۔ اور پھر ایسی آواز نکالتا ہے جیسے قہقہہ بلند ہوتا ہے۔ ہوا یہ کہ پہلی دو راتیں کتے اور لکڑ بگّے میں کشمکش ہو تی رہی اور پھر کتا قابو میں آگیا ۔ انسانی ہاتھ بھی کتا ہی مرگھٹ سے اٹھا لا یا تھا۔
فضل الکریم باتیں کر تے کر تے یکایک سنجیدہ ہو گیا۔ اور غور سے بنگلے کا چھپر دیکھنے لگا۔ ساتھیوں کو وہیں چھوڑ کر عمارت کے گرد ایک چکر لگایا ۔ اور واپس آکر پرا سرر انداز میں گویا ہوا۔ جلدی سے ایک سیڑھی اور دو تین جھاڑو کا بندوبست
کر ڈالو۔
سیڑھی ڈاکٹر چودھری کے بنگلے سے مل گئی ۔ فضل الکریم نے چھت گیری ادھیڑ کر علیحدہ کر دی ۔ گرد کی موٹی نہ غبار کی شکل میں کمرے میں پھیل گئی۔ چھپر اور چھت گیری کے درمیانی خلا کی صفائی مدت سے نہ ہوئی تھی۔ مختلف پرندوں نے گھونسلے بنا رکھے تھے اور چھپکلیاں بڑی تعداد میں رینگ رہی تھیں۔ فضل الکریم نے سارے آشیانے اُجاڑدیے ۔
دو روز گزر گئے اور کوئی نیا واقعہ پیش نہیں آیا۔ رفتہ رفتہ وحشت کا احساس زائل ہو تا رہا۔ پھر عثمان کا اعتماد مکمل طور پر بحال ہو گیا۔ تا ہم اس کے ذہن میں ایک نا معلوم سی خلش موجود تھی۔
اپور
ایک شام وہ کالج ہاسٹل سے لوٹ رہا تھا کہ بابا جی تانگے میں آتے دکھائی دیے۔ وہ گھبرا کر ایک درخت کی اوٹ میں چھپ گیا۔ تانگہ قریب آکر رُک گیا۔ بابا جی نیچے اُترے اور اسی طرف چل دیے جہاں عثمان درخت کی اوٹ میں چھپا ہوا تھا۔ عثمان تھر تھر کانپنے لگا۔ بابا جی کو ہنسی آگئی۔ "او ۔عثمان! اب کائے تو چھپا رے۔ سانپاں تھے مر گئے۔ اب کائے کو ڈرتا ۔ نکو ڈرتے رے۔ تاج الدین سے نکو ڈرتے۔ اﷲ سے ڈرتے۔"
عثمان نے ادب سے سلام کیا ۔ بابا جی نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ ہی تانگے میں بٹھا لیا۔ اور شکر درا کی طرف دیے۔
آبادی سے گزرے تو معتقدین کے ایک ہجوم نے تانگہ گھیر لیا ۔ مجبوراً بابا جی نیچے اُتر آئے۔ حاجت مندوں کو دعائیں دیتے ، جھڑکتے، حالت جذب میں مسکرتے، خفا ہوتے اور عثمان کا ہاتھ پکڑے آگے بڑھتے رہے۔ شکر درا تک سلسلہ اسی طرح جاری رہا۔
معتقدین کے جلو میں بابا اور عثمان راجہ رگھوجی کے محل میں داخل ہوئے اور اس چھوٹے سے مندر کا رخ کیا جہاں تین دن پہلے سالانہ میلا لگا تھا۔، چہل پہل ابھی باقی تھی ۔ بابا جی کو دیکھ کر دو تین پنڈت ہاتھ جوڑے باہر نکل آئے بابا جی نے نرم لہجے میں کہا۔ "تمہارا بڑا دیو بڑا میلا کچیلا لگتا جی۔ میں اسے نہلادوں"۔ نہیں بابا ! آپ دیا کریں ۔ ہم آپ ہی اشنان کر ادیں گے۔ انہوں نے گھبرا کر جواب دیا ۔ بابا کو نہلانے دیتے رے۔ تم پنڈتوں رگھوجی کی اور اپنی لٹیا ڈبو کر دَم لو گے۔تاج الدین کی بات مان لیتے رے۔ نہیں بابا! انہوں نے ایک زبا ن ہو کر کہا ۔ بابا ہنس کر آگے بڑھ گئے۔ اور پھر آہستہ سے بڑبڑائے ۔ عثمان ! تو ا ن کے مہا دیو کو ضرور نہلا نا رہے۔
عثمان نے کوئی جواب نہ دیا۔ اور پنڈتوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ عثما ن کو بعد میں معلوم ہو ا کہ بابا پہلے بھی ایک بار اسی طرح مندر میں آئے تھے اور ان کی اس بات پر ہندو بگڑ گئے تھے لیکن کسی کو الجھنے کی ہمت نہ ہوئی تھی۔
اسی احا طے میں راجہ دگھوجی نے لوہے کے کپڑے میں شیر پال رکھا تھا ۔ بابا کی نگاہ ا س پر گئی تو بولے ۔ ارے اسے کیوں بند کر رکھا ہے ۔ ؟ بے چارہ پریشان ہو رہا ہے نا۔ کنبے سے بچھڑ گیا۔ کتّا بن گیا۔ ٹامی۔ ٹامی۔
عثما ن چونک پڑا۔ ڈر کے مار ے اس کا سانس پھولنے لگا اور جسم پر رعشد طاری ہو گیا۔ بابا نے بڑھ کر پنجرے کا پھاٹک کھول دیا ۔ شیر با ہر نکل آیا۔ لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ اور وہ سب بھاگ کھڑے ہوئے۔بابا نے کہا بڑا اچھا کتا ہے ۔پھر عثمان سے مخاطب ہوئے ۔ پنجرے میں پھنستا تو شیر کتا بن جا تا نا۔ تو بھی ٹامی بنے گا عثما ن اور بڑے دیو کو نہلائے گا۔
اس براہِ راست خطا ب سے عثمان کے اوسان خطا ہوگئے ۔ اس نے کچھ کہنا چا ہا۔ مگر گھگی بند ھ گئی۔ اس کی نظریں شیر پر جمی ہوئی تھیں مگر بنکٹ راو ہر بات سے بے نیاز صرف بابا جی کو دیکھ رہا تھا۔ بابا جی شیر کو چُمکار تے ہوئے اپنے حجرے تک لے گئے۔
کسی نے راجہ گھوجی کو خبر کر دی۔ وہ رائفل سنبھالے دوڑا آیا ۔ اور یہ دیکھ کر ششدر رہ گیا کہ بابا جی کے قدموں میں بیٹھا ہے۔
او نالائق ! اب کائے کو آیا۔ کتے کو پنجرے میں ڈالتے تو بھوکا نکو رکھتے، تیرے کو بھی پنجرے میں بند کر دوں؟۔
نہیں باباجی ! اس نے گھبر ا کر جواب دیا ۔ آپ اسے کٹہرے میں بند کر دیجیے۔ لوگ ڈر رہے ہیں ۔
"یہ آپی چند ہوجائے گا۔ کل سے بھوکا ہے ۔ تو اس کے کھانے کا بند وبست کر"
"میں ابھی بندوبست کر تاہوں بابا جی!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
مگر وگر کچھ نہیں ۔ بابا بگڑ بیٹھے اور پھر شیر سے مخاطب ہوئے۔ جارے جا، تیرا راتب مل جائے گا۔ اپنے پنجرے میں انتظار کر۔
شیرنے حکم کی تعمیل کی رگوجی کو تحقیق کر نے پر معلوم ہوا کہ شیر واقعی چوبیس گھنٹے ؛
اپور
ایک دن عثمان کالج ہوسٹل پہنچا۔ وہاں اسے معلوم ہوا کہ کچھ ہی دیر پہلے تاج الدین بابا ادھر سے گزرے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں ڈھاک کے پتے کا دَونا تھا۔ سیدھے ہندووں کے میس میں آئے اور رسوئی میں گھس گئے۔ ہندووں کے لئے یہ بات ناقابل برداشت تھی۔ چند متعصب طلبہ بہت طیش میں آئے مگر بابا کا احترام ان کے ارادوں میں حائل ہو گیا۔ بابا نے کڑھی نما سالن کا پتیلا کھولا۔ پھر فورا ً پلٹے اور چیختے چلاتے ڈائننگ ہال کی طرف لپکے۔ ایک جٹا دھاری برہمن کے ہاتھ سے نوالہ چھین لیا اور کڑھی کا پیالہ اُٹھا کر فرش پر انڈیل دیا۔ یہ نکو کھاتے رے۔نکو کھاتے۔وہ زور زور سے کہتے رہے۔ سب پھینک دو۔!
یہ پہلی تھالی تھی جو ہال می ںکھانے کے لئے لائی گئی تھی۔ لڑکے بابا کی حرکتوں پر خفا اور حیران تھے لیکن وہ برہمن لڑکا اچھل پڑا جس کے قریب پیالہ انڈیلا گیا تھا ۔ سالن میں زہریلی مر دہ چھپکلی پڑی تھی۔
بابا وہاں سے سیدھے اس کمرے میں چلے گئے جہاں عبد الغفار اور فضل الکریم بیٹھے تھے۔ ہاسٹل میں مسلمانوں کے لئے کھانے کا بندوبست نہ تھا۔ وہ اپنے ایک اور ساتھی کا انتظار کر رہے تھے کہ کھانا باہر جا کر کھائیں۔ بابا کو دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ وہ یہاں پہلے کبھی نہیں آئے تھے۔ انہوں نے اد ب سے سلام کیا ۔بابا نے سلام کا جواب دیتے ہوئے دَونا ا ن کی طرف بڑھا دیا ۔ اس میں چھ گلا ب جامن تھے۔ ان میں سے دو گلا ب جامن فضل الکریم اور عباسی کو دیے ہی تھے کہ دس بارہ ہندو لڑکوں کا جتھا دوڑتا ہو اآیا۔ برہمن لڑکا سب سے آگے تھا۔ وہ ہاتھ جوڑ کر بابا کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ عین اسی لمحے بابا نے دو گلاب جامن عبد الغفار کو دیتے ہوئے کہا ۔ چھپکلی نکو کھاتے رے۔ گلاب جامناں کھاتے۔ اپنا رتبہ گھٹاتے جی۔ پھر وہ فضل الکریم سے کہنے لگے۔ عیباں نہیں ڈھونڈتے جی، عیباں چھپاتے ، بُروں کو اچھا بناتے، ان کے ساتھ بُرے نکو، بنتے۔
ا ن کی بے ربط باتوں کا مفہوم کوئی اور نہ سمجھ سکا۔ باب جی ﺭﺿ پھر چوبے کی جانب متوجہ ہوئے۔ مسلمان کا چُھوا نکو کھاتے۔ گلاب جامنا ںنکو کھاتے۔ چھپکلیاں کھاتے، کیوں رے نالائق؟
نہیں بابا !۔، چوبے کی زبان سے نکلا اور ا سکا رنگ زرد پڑ گیا ۔ نہیں بابا ۔ چوبے آپ کا چُھوا تو شوق سے کھائے گا۔ یہ کہتے ہوئے عبد الغفار نے ایک گلاب جامن چوبے کو پیش کیا۔ وہ آداب بجا لا یا اور منہ میں رکھ لیا۔ بابا ﺭﺿ نے مسکراتے ہوئے عبد الغفار کی طرف دیکھا مگر کچھ بولے نہیں۔
دوسرے ہندو لڑکوں نے بھی بابا ﺭﺿ کو گھیر لیا اور خوشامد کر نے لگے کہ ہمارے پاس ہونے کی دعا کریں ۔
جاورے جاؤ نالائقو! سب پاس ہوگئے۔ انہوں نے فقط اتنا کہا اور تانگے پر سوار ہو کر چلے گئے۔
عثمان نے یہ تفصیل سن کر اندازہ لگا یا کہ بابا ﺭﺿ بہت اچھے موڈ میں ہیں۔ ان سے ملنا چاہیے۔ صرف فضل الکریم نے ساتھ دیا۔ وہ ان سے ملنے چلے۔
اپور
اسی اثنا ءمیں بابا تانگے پر سوار آتے نظر آئے ۔ عثما ن کے قدم رُک گئے ۔ بابا جی اسے اپنے ساتھ لیا۔ اور سیدھے شکر دار روانہ ہو گئے۔محل کے احاطے میں پہنچ کر عثمان کا ہاتھ پکڑ ے وہ پھر مندر کی طرف گئے ۔ وہاں سناٹا تھا ۔بابا جی کی آواز اُبھری ۔بڑا دیو گندا ہے رے۔ مکھیاں بھنکتیں، اس کو نہلائے گا ، ہے نا!
نہیں بابا، عثما ن کی زبان سے یونہی نکل گیا ، بابا نے بہت غور سے دیکھا۔
"کائے کو ڈر تا رے۔ چل میرے ساتھ، ٹوٹے دھاگے بھی جڑ جاتے۔
مندر کے قریب پہنچے ہی تھے کہ کٹہرے کی اوٹ سے رگھوجی اور شہر کا کو توال جبار خان نمودار ہوئے۔ بابا جی ﺭﺿ کو دیکھتے ہی رگھوجی ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا ۔ مندر کے دو تین پجاری بھی نکل آئے اور ہاتھ جوڑ کر بابا کو روکنے لگے ۔بابا ہنس دیے اور جبار خان سے مخاطب ہوئے ۔"ارے بڑے کتّے تو کا ے کو آیا رے، شیر بنے گا، پنجرے میں بند ہو گا ، کیا کھائے گا رے۔
"بابا ولی بنادو!"کوتوال کی زبان سے بے اختیار نکلا۔
وہ چونک کو بولے۔ بہت بھوکا ہے رے مگر ولی تو یہ پتھر ہے۔ انہوں نے ایک پتھر کی طرف اشارہ کیا ۔ پھر اس کی آنکھو ں میں آنکھیں ڈال کر گر دن کو ہلکی سی جنبش دی ۔جبّار خان تڑپ کر زمین پر گر پڑا۔ زبان سے اﷲھو کے نعرے بلند ہو نے لگے۔ اور مُر غِ بسمل کی طرح تڑپنے لگا۔ باب ﺭﺿ سکتے کے عالم میں اسے دیکھ رہے تھے۔ دس منٹ اسی عالم میں گزر گئے تو رگھوجی گھبرا اُٹھا۔ بابا ﺭﺿ نے سر کو دوبارہ جنبش دی ۔ کوتوال ہو ش میں آگیا۔ لیکن آنکھیں اب بھی انگارے کی طرح سُرخ تھیں اور قدم لڑکھڑا رہے تھے۔
"اب اس کا پیٹ بھرا۔ کئی دن کا بھو کا تھا جی۔ بہت بھوکا ہے ۔ پھر وہ جھرے کی طرف چل دیے۔ راجہ نے رکتے کہا۔ کو توال صاحب کے ساتھ چیف کمشنر ، سر نمجن رابرٹس آئے ہیں۔ میرے محل میںآپ کا انتظار کر رہے ہیں۔
اپور
اجازت ہو تو بلا لاؤں
بُلالے رے۔ بُلالے بندر کو، بے چارہ پریشا ن ہے ۔ تاج الدین کسی کو نکو روکتا جی۔
عثمان بنکٹ راؤ کے قریب بیٹھا تھا۔ پہلوان بابا کی مٹھائیاں بھر رہا تھا ۔ راجہ کے ہمراہ سر نمجن ننگے پؤں حجرے میں داخل ہوا۔ بابا جی نے بڑے اطمینان سے کہا۔ ارے بندر، تو کائے کو اتنا خرچہ کیا، بچی کو ناحق تکلیف دیا۔ بٹیا کو مٹی سو نگھادیتے رے، اچھے ہو جاتے۔
کوئی نہ سمجھ سکا کہ بابا کیا کہہ رہے ہیں ۔ عثمان کی نگاہ دروازہ کی جانب اُٹھی۔ جوتوں کے قریب کوتوال بیٹھا نظر آیا۔ اس پر ابھی تک لرزہ طاری تھی۔ اور آنکھوں سے اشک رواں تھے۔ وہیں رانی، سر نمجن کی میم اور جواں سال بھتیجی کھڑی تھی ۔ بابا نے ا ن کو دیکھا تو فورا ً اُٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ خواتین کا بڑا احترام کر تے تھے۔ رانی کو بیٹی بنا رکھا تھا اور اسے بہت عزیز رکھتے تھے۔
جاؤ رے اندر جاؤ، باہر کائے کو کھڑے ہو۔ وہ ان سے مخاطب ہوئے۔ رانی نے ہاتھ جوڑ کر نمستے کیا ۔ ان دونوں نے بھی اس کی تقلید کی ۔پھر رانی لڑکی کا ہاتھ پکڑے آگے بڑھی۔ لڑکی کے سر پر پٹی بندھی تھی۔
بابا ! اس کے سر میں درد رہتا ہے ۔ لندن میں کسی علاج سے فائدہ نہ ہوا۔ سر خمن نے اسے آ پ سے دَم کرانے کےلئے وہاں سے بُلوایا ہے ۔ وہ ایک ہی سانس میں پوری بات کہہ گئی۔
یہ بندر تو پگلا ہے جی۔ بچی کو تکلیف دیا۔ تاج الدین کو بولنا تھا۔ پھر بڑے پیار سے اسے اپنے قریب بٹھایا ۔ پریشان نکو ہونے بیٹی، مٹی سونگھ لیتے، اچھے ہوجاتے، پٹی کھول دیتے، شفقت اور مٹھاس ا ن کے لہجے سے پھوٹی پڑتی تھی۔
لڑکی نے کچھ بھی نہ سمجھا۔ وہ اردو سے نا آشنا تھی۔ حیرت بھری نگاہوں سے بابا کو دیکھ رہی تھی۔
کون سے مٹی۔ رگھو جی نے پوچھا۔یہ بند ر لائے گا جی۔ سڑک کی مٹی لائے گا۔ بچی کو سونگھا دیتے جی۔، اچھے ہو جاتے ، سر خمن رابرٹسن بابا کی خدمت میں پہلے بھی حاضری دے چکے تھے ۔ بات سمجھ گئے۔ فورا ً سڑک سے تھوڑی سی مٹی لے آئے اور بچی کو اسے سونگھ لینے کی ہدایت کی۔مٹی سونگھتے ہی لڑکی کو تین چار چھینکیں آئیں اور ہر چھینک کے ساتھ اس کی ناک سے ایک کیڑا گرا۔
بس بیٹی بس ۔ اب اچھے ہوگئے ۔ بابا نے پورے اعتماد سے کہا ۔
رانی نے اس کے سر کی پٹی کھول دی۔ سر کا درد بالکل غائب ہو گیا۔ فرط مسرت سے لڑکی کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ وہ سب کے سب سراپا شکر وسپاس بنے ہورے تھے۔ لڑکی کے اشارے پر سر منجمن نے احساس تشکرکے ساتھ باباجی کی خدمت میں کثیر رقم پیش کی ۔ تو ان کی پیشانی پر بل پڑگئے۔ مگر ان کے الفاظ میں بڑی نرمی تھی۔ تو
میری پیٹی ہے۔
ببٹی باپ کو نذرانہ نہیں دیتی۔ باپ بیٹی کو دیتاہے۔ یہ کہا اور گاﺅ تکیے کے نیچے ہاتھ ڈالا۔
چند سکے لڑکی کے ہاتھ پر رکھ دئیے۔ اس نے خوشی خوشی تحفہ قبول کر لیا اور پھر وہ شاداں وفرحاں رخصت ہوگئے۔
ادھر کوتوال جبار خاں کی زندگی میں ایک عظیم انقلاب آگیا۔ وہ ساری رات اللہ اللہ کی فرب لگاتا رہا۔ دوسرے دن گھر کا سارا سامان لٹا
دیا اور درویشی اختیار کر لی ۔
سر بنجمن نے کچھ عرصے اسے تحفظ دیا مگر پھر کو شش کر کے وقت سے پہلے ہی پےنشن دلوادی۔
لوگ نہیں جانتے کہ سی پی کے مسلمانوں کی زیادہ تر فلاح و بہبود حضرت تاج الدین باب ﺭﺿ کی رہےن منت ہے اور پورے صوبے پر ان کا زبردست احسان ہے۔ سر بنجمن کی یہی ملاقات مسلمانوں کے حق میں رحمت ثابت ہوئےی ۔ انہوں نےبڑی تعداد میں اسکول اور مدرسے قائم کر کے تاج الدین بابا کا فےضان عام کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کی در سگا ہوں کے لئے زمیںےں فراہم کےں عمارتوں کی تعمےر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
اور تعلےم یا فتہ مسلمان جوانوں کے لئے روز گار فراہم کر تے رہے۔ یہی وجہ ہے کے جبل پور کے مسلمانوں کا اسکول آج بھی رابرٹسن انجمن اسلامیہ ہائی اسکول کے نام سے موجود ہے۔ انہوں نے وہاں ہزاروں مخالفتوں کے باوجود رابرٹسن کالج بھی قائم کیا۔ ناگ پور کا انجمن اسلامیہ ہائی اسکول بھی سر بنجمن اور تاج الدین باب کی اسی ملاقات کی یاد گار ہے۔
کالج ہاسٹل میں چھپکلی والے واقعے کے چند روز بعود امتحان کا نتےجہ نکلا تو وہ سارے ہندواور تےنوں مسلمان طلبہ کامیاب قرار دےے گئے جن کی اس روزبابا جی سے مالقات ہوئی تھی۔ فضل الکریم عباسی ، عبدالغفار اور چوبے اجنہوں نے باب جی کے دےے ہوئے گلاب جامن کھائے تھے، درجہ اول میں کامیاب ہوئے ۔
نتےجے کے دوسرے ہی دن سر بنجمن نے نہیں طلب کر لیا ۔ صرف فضل الکریم اور عباسی پہنچ سکے۔ عبدالغفار اور چبے اپنے گھر جا چکے تھے۔ سر بنجمن نے ان دونوں تحصیل دار مقرر کر
دیا اور دوسال بھی نہ گزرے تھے کہ وہ ا سسٹنٹ مشنر ہوگئے۔
چند روز بعد عبدالغفار اور چبے بھی پہنچ گئے۔ نائب تحصیل وار مقرر کئے گئے۔ مگر خالی جگہیں نہ ہونے کے باعث سالہاسال کی ملازمت کے باوجود تحصیلداری سے آگے نہ بڑھ سکے۔ سر بنجمن کا تھاڑے ہی عرصے بعد تبادکہ ہوگیا تھا ۔ پھر بھی وہ اپنے جانشےں کمشنر صاحب سے یہ کہتے گئے کہ وہ مسلمانوں کی تعلےم اور ترقی میں دل چسپی لیتے رہیں گئے۔
ایک شام چائے پر عبدالغفار ، چبے اور نورس بھی موجود تھے۔ چوبے ناگ پور میں تعینات تھا اور عبدالغفار کو ساگر کی طرف کوچ کر نا تھا للےتا نے عثمان سے کہ کہ وہ بڑے دادا تاج الاولیاء سے دعا کرائے کہ ڈاکٹر چودھری کی پریکٹس چل نکلے چائے کے بعد عبدالغفار کے علاوہ سارے مرد بابا جی کی خدمت میں حاضر ہو ئے۔
باب حجرے میں تھے۔ اور ان پر استفراق کی کےفےت طاری تھی کچھ دےر بعد وہ عالم حوا س میں آگئے۔ عثمان پر نگاہ پڑتے ہی ان کا چہرہ شاداب ہو
گیا۔ ارے عثمان تو اتنے دن سے کےوں نہ آیا ؟ دےوتا مےلا ہو رہا نا ۔ اس کو نہلاتا کائے نا۔
ٓوہ اٹھنے لگے۔ اور اس روز عثمان کو رگھو جی جگہ لےنا پری نہیں بابا۔ آپ بیٹھے رہیں ۔ ادھر نہ جائیں رگھو جی خود نہلا دیں گے۔
رگھو جی نکو نہلا سکتا رے انکو نہلا سکتا رے ۔ تو کائے کو ڈرتا ۔ پھر کائے کو آیارے کائے کو آیا ۔ جا اپنا راستہ لے۔
عثمان نے پہلی بار بابا کے سامنے زبان کھلی تھی۔ وہ ان کی خفگی پر گھبرا کے چپ ہوگیا۔
فضل الکریم نے بات کا رخ بدل دیا۔ بابا جی یہ ڈاکٹر چودھری اور نورس آپ سے ملنے آئے ہیں ۔ اور یہ چوبے سلام کے لئے حا ضر ہوا ۔ سلام کرنے نکو آیا رے بولتا گلاب جامن سے
پیٹ نکو بھرا ۔ پیٹ میں درد ہو جائے گا رے چھپکلی نکو کھاتے رے تو کھائے گا عثمان ؟
عثمان جھےنپ گیا۔
ڈاکٹر پیٹ کے درد کا علاج کرتا نا ۔ زیادہ کھانے سے درد ہو جاتا بندر اچھا رے جھنڈی دکھا تا۔
ان پر پھر جزب کا غلبہ طاری ہو گیا۔ وہ سب بت بنے بیٹھے رہے۔ پھر فضل الکریم کے اشارے پر اٹھ کر باہر آگئے۔ اس نے سمجھا یا کہ اس کی بات کا جواب مل چکا ہے۔ مگر چوبے کا اصرار تھا ،
نہیں ایک بار پھر بابا کے پاس جان چاہے۔ نورس نے کوئی رائے نہ دی اس کی آنکھیں سر خ ہورہی تھیں۔ اور جسم پر لرزہ طاری تھا۔ ابھی وہ کوئی فےصلہ نہ کر پائے تھے کے بابا خود حجرے سے بر آمد ہوئے وہ لوگ سہم گئے۔
تو ابھی تک نہیں گیا رے عثمان باب کی بات نہیں مانانا ۔ اس بار ان کا لہجہ نر م تھا۔ اور بندر تو سلام کرنے آیا تھا۔ تاج الدین کی دعا لےتا جا ۔ نالائق ۔ عثمان اس کو جامن کھلانارے اور کیا منگتا ر ے بندر ؟
نورس اور عثمان گھرپہنچے ۔ کھانے کی مےز پر د و دعد گلاب جامن دیکھ کر حےرت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ ملازم نے بتآیا کہ بنکٹ راﺅ کا لڑکا دے
گیا ہے۔ ان کے گھر نیاز دلائی گئی تھی۔یہ اس کا تبرک ہے۔
نیا ز کےسی ! وہ تو ہندو ہے۔
ہندو ہونے کے باوجود ہر جمعرات کو حضور کی نیاز دلواتاہے۔ باباجی کی ہدایت کے مطابق عثمان نے گلاب جامن نورس کو اصرار کے ساتھ کھلادےے کھانے بعد وہ رخصت ہو
گیا۔ ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ اس کی ترقی کے احکام آگئے۔ اور وہ ڈوےژن نل سپر نٹنڈنٹ ہو کر بمبئی چلآگیا۔
فضل الکریم اےم ۔ اے سی کے عہدے پہر فائز ہو کر بلا سپور کی طرف کوچ کر
گیا بمبئی سے عثمان کی ترقی کا آرڈر آیا تو وہ پس و پیش میں پڑگیا۔ لوگوں کا خیال تھا اسے بابا کی دوری گوارا نہ ہوگی ۔اور وہ ناگ پور نہ چھڑے گا مگر اس کے لئے اس تاثر کے خٰلاف عمل کرنا بہت دشوار تھا۔ ڈاکٹر چودھری ہنوز ترقی کی راہ تک رہا تھا پھر اچانک راجہ بلاسپور کے یہاں سے اس کے لئے بلا وا آگیا۔
گاڑی پر سوار ہوتے وقت چودھری کی نگاہ بنکٹ راﺅ پر جا پڑی ۔ وہی اس گاڑی کا گارڈ تھا۔ اگلے اسٹےشن پر وہ اس کے پاس آیا اور باب جی کا پےغام
دیا ۔ مرےض کو کھربا کھلانا۔ ڈاکٹر چودھری کی سمجھ میں کوئی بات نہ آئی ۔ تاہم وہ منزل مقصود تک پہنچ
گیا۔ اس کے پیٹ میں اس قدر شدید درد ہوتا کہ وہ تڑپ جاتا تھا ۔ بڑے بڑے ڈاکٹر اس کے
پیٹ میں اس قدر شدید ہوتا کہ وہ تڑپ جاتا تھا۔ بڑے بڑے ڈاکٹر اس کے علاج سے ماےوس ہو چکے تھے۔
چودھری نے دو تےن روز علاج کیا مگر مرض کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا۔ اسی دوران بنکٹ راﺅ نے ایک بار پھر بابا کا پےغام یاد دلآیا تب اس نے کھرےے کا سفوف کھلا نا شروع کیا اور آٹھ دس روز میںمرےض مکمل صحت یاب ہوگیا۔
اس کار نامے سے چودھری کی شہرت کو چار چند لگ گئے اور وہ بڑے معقول مشاہرے پر راجہ صاحب کا ذاتی معالج مقرر ہو
گیا۔ تےن مہےنے کے اندر اندر اس کی پریکٹس اس قدار بڑھ گئی کہ سراٹھانے کی مہلت نہ رہی ۔
عثمان اس ماحول میں اجنبی نظر آتا تھا ۔ اس کا دل اچاٹ ہو گیا ۔ اور اس نے وہاں سے اپنا تبادلہ کر الیا۔ وقت دبے پاﺅں گزرتا رہا۔ایک روز وہ فضل الکریم کے پاس بلا سپور پہنچا۔ وہ بڑے تپاک سے ملا اور زبردستی اپنے یہاں ٹھہرالیا۔
دونوں رات بھر باتےں کرتے رہے فضل الکریم نے حےرت انگےز انکشاف کئے ۔ باتوں ہی باتوں میں بھوت بنگلے کا ذکر چھڑ
گیا۔ فضل الکریم نے کہا ۔ میں نے اس بنگلے میں وقوع پذےر ہونے والے سارے واقعات کا کھوج لگا لیا ہے تاہم ایک دو کڑیا ں باقی ہیں ۔ تمیں اپنے خاندان کے بارے میں کچھ بتانا ہوگا ۔ باب جی کی بات سے مجھے اندازہ ہوا ہے کہ بھونسلہ خاندان سے تمہارا کوئی تعلق ہے۔
عثمان نے اعتراف کرتے ہیوئے بتا یا ۔ ہمارے پر دادا نے اسلام قبول کیا تھا ۔ ان کا تعلق چھوٹا نا گ پور کے مرہٹہ خاندان سے تھا۔ فضل الکریم کی آنکھوں میں عجےب سی چمک پےدا ہوئی اور اس نے نہایت قدیم دستاوےز نکالتے ہوئے کہا ۔ شاید تمہیں معلوم نہ ہو کہ راجہ رگھوجی کی جا گےر حال ہی میں کورٹ آف وارڈ سے و اگزار ہوئی ہے۔ گورنمنٹ نے مجھے ا کا کسٹوڈےن مقرر کیا اور اس سلسلے میں گزشتہ ماہ مجھے بمبئی جانا پڑا ۔ رگھوجی ک محل قرضوں کی وجہ سے بحق سر کار ضبط ہو چکا ہے۔ فضل الکریم نے سروآہ بھرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔ شاید تمہیں علم نہ ہو رگھو جی کی اس وقت کوئی اولاد
نہیں ہے۔ اور اس کی خاندان سارے افراد انگریزوں نے پہلے ہی تہ تےغ کر دےے لیکن راج کمار روپش ہو چکا تھا۔ اس کا سر اغ
نہیں مل سکا۔
یہ کہہ کر اس نے دستاوےز پر ایک جگہ انگلی رکھ دی اورعثمان سے پوچھا۔ تمہارے پردادا کا سابقہ نام یہ تو
نہیں تھا۔
عثمان نے اپنے حاقطے پر زور دیتے ہوئے کہا ۔ غالباً ہماری دادی یہی نام بتاتی تھیں۔ فضل الکریم نے تقریب اچھل کر اپنے جزبات ظاہر کئے۔ عثمان ! تم نے بابا کی بات نظر انداز کر کے اور مندر کے بت کو غسل نہ دے کر بہت بڑی غلطی کی ہے ورنہ گھوجی کے ساتھ تمہارے بھی دن پھر جاتے ۔ اب تو سب کچھ ہو چکا ۔ افسوس !
یہ تم کیا کہہ رہے ہو ، کریم ! میری سمجھ میں خاک بھی نہ آیا ۔ عثمان بھونجکاسا رہ
گیا۔
اپور
|